رائے پور : چھتیس گڑھ کے وزیراعلیٰ بھوپیش بگھیل نے قبائلی علاقوں کی توقعات اور ان کی ترقی کو پورا کرنے کے لیے اپنی حکومت کے عزم کو دہرایا اور کہا کہ گزشتہ ڈھائی سالوں میں 29 نئی تحصیلیں اور چار نئی سب ڈویژن تشکیل دی گئیں۔مسٹر بگھیل نے آج آل انڈیا ریڈیو کے مراکز سے نشر ہونے والے لوک وانی پروگرام میں کہا کہ پرانے مطالبے کو مدنظر رکھتے ہوئے نہ صرف گوریلا۔ پنڈرا۔ مرواہی کو ضلع بنایا گیا بلکہ قبائلی اکثریتی علاقے کو بھی ان کا حق دیا گیا۔ ان کا ماننا ہے کہ نئے انتظامی اکائیوں کی تشکیل سے لوگوں کو اپنی زمین ، زراعت سے متعلقہ کام ، بچوں کی تعلیم ، نوکری تک آسان رسائی ملے گی۔ سرکاری اسکیموں پر بہتر عملدرآمد ہوگا۔ یہی وہ چیز ہے جسے ہم نے انتظامی حساسیت کا مرکز بنایا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اقتدار میں آنے کے بعد ہم نے سب سے پہلے قبائلیوں کا اعتماد جیتنے کی بات کی۔ اس کے لیے منسوخ شدہ جنگلات کے حقوق کے دعووں کا جائزہ ، قید قبائلیوں کے مقدمات کا جائزہ لے انہیں رہائی دلانا ، بڑے انڈسٹری گروپ کے قبضے سے قبائلیوں کی زمین واپس کرانے کا فیصلہ ، ٹنڈو پتیوں کی وصولی کی شرح 2500 سے بڑھا کر 4 ہزار روپے فی بوری کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کے ساتھ قبائلی علاقوں میں حکومت اور نظام پر اعتماد کا ایک نیا دور شروع ہوا ہے ۔ ہم نے 7 سے بڑھا کر 52 جنگلاتی پیداوار کو سپورٹ پرائس میں خریدنے کے انتظامات کیے ہیں اور پرانے ریٹ میں تبدیلی کیے ہیں، جس کی وجہ سے 500 کروڑ روپے سالانہ زائد آمدنی کا راستہ ہموار ہوا۔