حکومت کا مالیاتی پیاکیج ،شرح نمو کا 0.91 حصہ ،مایوس کن وناکافی

   

مائیگرینٹ ورکرس ، غریب ، کسان ، دکاندار اور اوسط آمدنی والے افراد بری طرح نظرانداز ، جامع پیاکیج کے بغیر معاشی ترقی ناممکن : چدمبرم

نئی دہلی۔ 18 مئی (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس نے پیر کو کہا کہ ملک میں جاری بدترین معاشی بحران کی سنگینی کے مقابلے حکومت کی طرف سے معلنہ مالیاتی پیاکیج انتہائی مایوس کن حد تک ناکافی ہے اور یہ 1.86 لاکھ کروڑ روپئے مجموعی گھریلو پیداوار کا بمشکل 0.91% ہوتا ہے۔ کانگریس نے معاشی پیاکیج پر نظرثانی کرتے ہوئے مجموعی گھریلو پیداوار کا کم سے کم 10% حصہ پر مشتمل جامع معاشی پیاکیج جاری کیا جائے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر فینانس پی چدمبرم نے کہا کہ مالیاتی سرگرمیوں کو متحرک کرنے کیلئے جاری کردہ پیاکیج میں غریبوں، مہاجر مزدوروں، کسانوں، محنت کشوں، کارکنوں، چھوٹے دکانداروں اور متوسط آمدنی والوں کے علاوہ دیگر کئی طبقات کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔ چدمبرم نے مزید کہا کہ ’ہمارے نظریہ میں 1,86,650 کروڑ روپئے مجموعی گھریلو پیداوار کا بمشکل 0.91% حصہ ہوتے ہیں جو معاشی بحران اور عوام جس بدترین صورتحال سے گذر رہے ہیں ، اس کے سامنے قطعی ناکافی ہیں‘۔ کانگریس کے ایک اور سینئر لیڈر و سابق مرکزی وزیر آنند شرما نے گزشتہ روز حکومت پر شعبدہ بازی، دروغ گوئی اور لفظی اُلٹ پھیر کے ذریعہ عوام کو گمراہ کرنے کا الزام عائد کیا تھا اور کہا تھا کہ مرکز کی طرف سے معلنہ معاشی پیاکیج ہندوستانی کی مجموعی گھریلو پیداوار کا صرف 1.6% حصہ ہے جس کی مجموعی مالیت وزیراعظم کے دعوے 20 لاکھ کروڑ روپئے کے برخلاف محض 3.22 لاکھ کروڑ روپئے ہے۔ بجٹ مصارف کے علاوہ اضافی مصارف کے بغیر معیشت کو مستحکم بنانے کیلئے کوئی بھی مالیاتی پیاکیج ناکافی ثابت ہوگا اور اس بات کا وزیر فینانس بھی اعتراف کرچکی ہیں چنانچہ مالیاتی پیاکیج کی حقیقی قدر و قیمت کا اس وقت ہی علم ہوگا جب ہمیں 2020-21ء میں حاصل کی جانے والی اضافی رقومات کا علم ہوگا کیونکہ ’’سچائی کو طویل عرصہ تک چھپایا نہیں جاسکتا ‘‘ ۔ مختلف ملکوں کی معیشت کے بارے میں تخمینہ اندازی کرنے والے بین الاقوامی اداروں کی جانب سے ہندوستانی معیشت میں انحطاط کے اندیشے ظاہر کئے جانے سے متعلق ایک سوال پر چدمبرم نے جواب دیا کہ ’یہ تخمینہ اندازی کرنے والے ادارے کوئی ملک نہیں چلاتے ،انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں تقریباً ہر ملک اس وقت مختلف مسائل سے دوچار ہے بالخصوص ہر یوروپی ملک کساد بازاری کا سامنا کررہا ہے ، اگر تخمینہ اندازی کرنے والے ادارے ہمیں انحطاط پذیر بتاتے ہیں تو انہیں ہر یوروپی ملک کو بھی انحطاط بتانا ہوگا ، یہ غیرضروری اندیشے ہیں ۔ ہمیں صورتحال کا سامنا کرنا ہوگا تاوقتیکہ بیرونی زر مبادلہ کے ذخائر مستحکم ہیں اور کساد بازاری و افراط زر کنٹرول میں ہیں تو سمجھ لیجئے کہ ہم صحیح راستے پر ہیں۔ اس سے مانگ میں اضافہ ہوگا اور گھریلو مجموعی پیداوار تیزی سے ترقی کرے گی‘۔