سابق وزیر محمد علی شبیر کا مطالبہ، وقف بورڈ اراضیات کی صرف نگرانکار مالک نہیں
حیدرآباد۔ 10 اپریل (سیاست نیوز) کانگریس پارٹی نے الزام عائد کیا کہ تلنگانہ حکومت جبراً اوقافی اراضیات پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتی ہے۔ قانون ساز کونسل کے سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے وقف بورڈ کی جانب سے اقلیتی اقامتی اسکولوں کے لیے طویل لیز پر اوقافی اراضیات حوالے کرنے سے متعلق وقف بورڈ کے فیصلے کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ وقف اراضیات منشأ وقف کی تابع ہوتی ہیں لہٰذا انہیں دیگر مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ منشأ وقف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حکومت کو اراضی لیز پر دینا وقف ایکٹ کی صریح خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ کو اراضیات لیز پر دینے کا کوئی اختیار نہیں۔ بورڈ اوقافی جائیدادوں اور اراضیات کا مالک نہیں بلکہ صرف نگرانکار ہے۔ وقف بورڈ کو منشأ وقف کی مخالفت کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ مذہبی قائدین متولیوں اور دیگر مسلم رہنمائوں نے اس تجویز کی سختی سے مخالفت کی ہے اس کے باوجود بورڈ نے حکومت کے دبائو میں قرارداد منظور کی ہے۔ تین اجلاسوں میں ارکان کی مخالفت کے نتیجہ میں یہ فیصلہ نہیں کیا جاسکا۔ صرف چار ارکان کی موجودگی میں یہ فیصلہ کرلیا گیا جو بورڈ کے کورم کی عدم تکمیل کے سبب غیر قانونی تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے سوال کیا کہ بورڈ کے دیگر ارکان اس اہم ترین مسئلہ پر اجلاس سے کیوں غیر حاضر رہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ حکومت کو اراضیات الاٹ کرنے کے مسئلہ پر بورڈ کے ارکان منقسم ہیں لہٰذا ارکان نے مستقبل میں خود کو تنقیدوں سے بچانے کے لیے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اقامتی اسکولوں کے لیے اراضیات کا انتظام کرے۔ صرف اس لیے کہ اسکولس اقلیتوں کے لیے ہیں، وقف بورڈ پر اراضی الاٹ کرنے کے لیے دبائو نہیں بنایا جاسکتا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ چیف منسٹر نے بورڈ پر ناراضگی جتائی تھی جس کے بعد 8 مقامات پر اراضی الاٹ کرنے کی قرارداد منظور کی گئی۔ چیف منسٹر دراصل وقف بورڈ سے 500 ایکڑ اراضی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اراضی الاٹ نہ کرنے کی صورت میں بورڈ کو تحلیل کرنے کی دھمکی دی گئی اور صدرنشین اور ارکان نے اپنے عہدے بچانے کے لیے حکومت کے حق میں فیصلہ کیا۔ انہوں نے بورڈ سے مطالبہ کیا کہ وہ متولیوں اور علماء و مشائخین سے مشاورت کے بغیر اس طرح کا کوئی فیصلہ نہ کرے اور کل کی منظورہ قرارداد سے دستبرداری اختیار کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے وقت جبکہ ساری ریاست لاک ڈائون میں ہے وقف بورڈ نے عجلت میں یہ فیصلہ کیا۔ آخر اس قدر عجلت کی کیا ضرورت تھی۔ محمد علی شبیر نے بتایا کہ وزیر اوقاف کی حیثیت سے کانگریس دور حکومت میں انہوں نے اقلیتوں کے لیے 13 اقامتی اسکول قائم کئے تھے اور یہ تمام سرکاری اراضیات پر ہیں اور حکومت نے تعمیری اخراجات برداشت کئے۔