حکومت کو گھٹنے ٹکانے کا موقع ، خانگی اسکول انتظامیہ کی حکمت

   

متعدد وعدے و تیقنات کی عدم تکمیل ، دانستہ ہراسانی سے پریشانی ، حکومت سے تعطیلات پر نئی منصوبہ بندی
حیدرآباد۔13اکٹوبر(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ کی کی جانب سے تعلیمی اداروں کو جاری تعطیلات میں دی جانے والی توسیع پر شہر حیدرآباد کے علاوہ ریاست کے بیشتر اضلاع میں چلائے جانے والے اسکولوں کے انتظامیہ نے اسکول کشادگی کی تاریخ میں توسیع کا فیصلہ کیا ہے لیکن ان کا کہناہے کہ وہ سرکاری احکامات کے سبب ایسا نہیں کر رہے ہیںبلکہ انہیں بھی سال2014کے بعد پہلی مرتبہ حکومت کو گھٹنے ٹکانے کا موقع میسر آیا ہے کیونکہ خانگی اسکولوں کے مسائل کے سلسلہ میں حکومت تلنگانہ نے متعدد مرتبہ تیقنات دئیے ہیں اور مسائل کو حل کرنے کا وعدہ کیا لیکن گذشتہ 6برسوں کے دوران خانگی اسکولوں کے مسائل کے حل کے سلسلہ میں کوئی پیشرفت نہیں کی گئی بلکہ ریاستی حکومت کی جانب سے ریاست کے خانگی اسکولوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایاجاتا رہا ہے۔خانگی اسکولوں کے ذمہ داروں نے بتایا کہ ان کی تنظیم کی جانب سے آر ٹی سی ملازمین کی ہڑتال کی تائید کے سلسلہ میں غور کیا جا رہاہے اور اس بات کی کوشش کی جا رہی ہے کہ حکومت پر دباؤ ڈالنے کیلئے اختیار کی جانے والی منصوبہ بندی میں جن شعبوں کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے ان تمام کو ساتھ لیا جائے کیونکہ حکومت نے جو وعدے کئے ان میں سے کسی پر بھی عمل نہیں کیا ہے بلکہ اب حکومت کی جانب سے آواز اٹھانے والوں کو ان کی ملازمتوں سے محروم کرتے ہوئے انہیں خوفزدہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ شہر کے بیشتر خانگی اسکولوں نے حکومت کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل آوری کے سلسلہ میں اولیائے طلبا و طالبات کو ایس ایم ایس روانہ کرتے ہوئے اس بات سے مطلع کردیا ہے کہ اسکولوں کی کشادگی ملتوی کردی گئی ہے اور اسکولوں کی جانب سے جاری کردہ ایس ایم ایس میں کشادگی کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے اور کہا جار ہاہے کہ اس سلسلہ میں خانگی اسکولوں کے ذمہ داروں کے اجلاس میں طئے کیا جائے گا کیونکہ حکومت من مانی فیصلے کرتے ہوئے طلبہ کے مستقبل سے کھلواڑ کررہی ہے ۔اسکول انتظامیہ کے ذمہ دارو ںکا کہناہے کہ ریاستی حکومت کے فیصلہ سے انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اور نصاب کی تکمیل میں دشواری ہوگی لیکن حکومت نے تعطیلات میں توسیع کا فیصلہ کرتے ہوئے پہلی مرتبہ شکست تسلیم کی ہے اور تعطیلات میں توسیع کا فیصلہ کیا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت آر ٹی سی ملازمین کی ہڑتال کے سبب پیدا شدہ صورتحال میں متبادل انتظامات کرنے میں ناکام ہوچکی ہے اسی لئے وہ اس ہڑتال کے اثر کو ظاہر ہونے دینا نہیں چاہتی ۔