حکومت کیخلاف شکایت کسی کی جلا وطنی کا جواز نہیں

   

اینٹی CAA احتجاج کے آرگنائزر کیخلاف پولیس کا حکمنامہ کالعدم۔ 39 سالہ جہد کار کلیم صدیقی کو راحت

احمد آباد : مخالف CAA احتجاج کے آرگنائزر کے خلاف پولیس کے تڑی پار حکمنامہ کو کالعدم کرتے ہوئے گجرات ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ شہریوں کو حکومت کے خلاف شکایت کرنے یا آواز اٹھانے پر جلا وطن نہیں کیا جاسکتا۔ جسٹس پریش اپادھیائے نے گزشتہ روز ایک تڑی پار حکمنامہ کو کالعدم کردیا جو احمد آباد سٹی پولیس نے 39 سالہ جہدکار کلیم صدیقی کے خلاف جاری کیا تھا۔ گزشتہ سال نومبر میں جاری کردہ تڑی پار حکمنامہ کے مطابق صدیقی کو ایک سال کے لئے اضلاع احمدآباد، گاندھی نگر، کھیڑا اور مہسانہ میں داخلہ سے روک دیا گیا تھا۔ صدیقی نے اس حکمنامہ کے جواز کو ہائی کورٹ میں چیالنج کیا، جس نے اس پر مارچ میں حکم التواء جاری کردیا تھا۔ دہلی کے شاہین باغ میں CAA (شہریت ترمیمی قانون )اور NRC (نیشنل رجسٹر آف سٹیزنس) کے خلاف ایجی ٹیشن سے تحریک پاکر صدیقی اور چند دیگر افراد نے گزشتہ سال جنوری اور مارچ کے درمیان رکھیال علاقہ میں دھرنا منظم کیا تھا۔ دسمبر 2019 میں سٹی پولیس نے سی اے اے اور این آر سی کے خلاف مظاہرے کرنے پر نامعلوم افراد کے خلاف غیر قانونی اجتماع کا ایف آئی آر درج کیا تھا اور دعوی کیا تھا کہ صدیقی ان احتجاجیوں کا حصہ رہا۔ یہ ان دون ایف آئی آر میں شامل رہی، جو صدیقی کو تڑی پار کرنے کا اساس بنی۔ ہائی کورٹ نے اپنے حکمنامہ میں بیان کیا کہ جہاں تک دسمبر 2019 کی دوسری ایف آئی آر کا معاملہ ہے، یہ نامعلوم افراد کے جمع ہونے پر درج کی گئی، جو این آر سی ؍ سی اے اے پر حکومت کی پالیسی کے خلاف مظاہرہ کررہے تھے۔ بتایا گیا کہ درخواست گذار متذکرہ ہجوم میں شامل تھا۔ جسٹس اپادھیائے نے کہا کہ کسی شہری کو حکومت کے خلاف اپنی شکایت کا اظہار کرنے پر تڑی پار نہیں کیا جاسکتا۔ اس نکتہ پر بھی تڑی پار حکمنامہ کو کالعدم کردینے کی ضرورت ہے۔ درخواست گذار کو راحت دیتے ہوئے عدالت نے یہ نشاندہی بھی کی کہ احمد آباد پولیس نے اپنے تڑی پار حکمنامہ میں جن دو ایف آئی آر کا حوالہ دیا ہے، صدیقی کو پہلے ہی 2018 میں درج اس کیس میں بری کیا جاچکا ہے۔