اطلاع کے بغیر شہریت ترمیمی قانون کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع ہونے پر اقدام
تھرواننتاپورم 19 جنوری ( سیاست ڈاٹ کام ) گورنر کیرالا عارف محمد خان نے ریاستی حکومت سے ایک رپورٹ طلب کی ہے ۔ انہں نے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ان کو اطلاع دئے بغیر سپریم کورٹ سے رجوع ہونے پر یہ رپورٹ طلب کی ہے ۔ راج بھون کے دفتر نے چیف سکریٹری سے اس تعلق سے رپورٹ مانگی ہے ۔ راج بھون کے ذرائع نے بتایا کہ گورنر کے دفتر نے چیف سکریٹری سے رپورٹ طلب کی ہے کیونکہ حکومت نے گورنر کو اطلاع دئے بغیر شہریت ترمیمی قانون کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست داخل کی ہے ۔ ریاست میں کمیونسٹ پارٹکی کی حکومت نے 13 جنوری کو سپریم کورٹ سے رجوع ہوتے ہوئے اس قانون کو چیلنج کیا تھا اور اسے دستور کے مغائر قرار دینے کی استدعا کی تھی ۔ گورنر عارف محمد خان نے چیف منسٹر پی وجئین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ عوامی امور اور سرکاری کام کاج کسی فرد یاسیاسی جماعت کی خواہش کے مطابق نہیں چلایا جاسکتا اور ہر ایک کو قوانین کی پابندی کرنی چاہئے ۔ کیرالا ملک کی پہلی ریاست تھی جس نے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف اسمبلی میں قرار داد منظور کی تھی اور اسے سپریم کورٹ میںچیلنج کیا تھا ۔ گورنر نے حکومت کے ان اقدامات پر سر عام عدم مسرت کا اظہار کیا تھا اور میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ قوانین کے مطابق ریاستی حکومت کو چاہئے کہ وہ ریاست اور مرکز کے تعلقات پر اثر انداز ہونے والے اقدامات سے متعلق گورنر کو مطلع کرے ۔ ریاستی حکومت کا تاہم اصرار ہے کہ اس نے قوانین کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی ہے اور نہ ہی گورنر کے عہدہ کی اہمیت کو گھٹانے کی کوشش کی گئی ہے۔وزیر قانون اے کے بالن نے کہا تھا کہ حکومت اس سلسلہ میں ریاستی گورنر کی جانب سے اٹھائے گئے تمام اندیشوں کو دو رکریگی ۔
