حکومت کی آر ٹی سی میں مداخلت ، بقایا جات کی عدم اجرائی

   

خانگیانے کے منصوبے کے خلاف ملازمین یونینوں کا 24 فروری کو چلو سکریٹریٹ احتجاج
حیدرآباد۔14فروری(سیاست نیوز) تلنگانہ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی مختلف یونینوں کے ذمہ داروں نے ریاستی حکومت کی جانب سے کارپوریشن کے بقایاجات کی عدم اجرائی اور کارپوریشن کو خانگیانے کے منصوبہ کے سلسلہ میں جاری اقدامات کے خلاف 24 فروری کو ’’چلو سیکریٹریٹ‘‘ احتجاج منظم کرنے کا فیصلہ کیاہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت کی جانب سے آرٹی سی میں مداخلت اور کارپوریشن کے بقایا جات کی اجرائی کے علاوہ کارپوریشن کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے منصوبوں اور وعدوں کے ساتھ آرٹی سی ملازمین کی یونینوں کی تائید حاصل کرنے والی برسراقتدار سیاسی جماعت 2سال قبل اقتدار حاصل کرنے سے قبل کئے گئے وعدوں کو فراموش کرچکی ہے اور آرٹی سی ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کے اقدامات کے بجائے ان امور کو نظرانداز کئے جانے کے خلاف یہ احتجاج منظم کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق آرٹی سی سے وابستہ تمام تنظیموں نے 24 فروری کے ’چلو سیکریٹریٹ‘ پروگرام کی تائید و حمایت کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ریاستی حکومت پر دباؤ ڈالتے ہوئے حکومت کو اپنے وعدوں پر عمل آوری کے لئے مجبور کیا جاسکے۔ملازمین کی یونینوں کے ذمہ داروں نے بتایا کہ ریاستی حکومت آرٹی سی کے اختیارات کو محدود کرتے ہوئے بسوں کی خریداری بالخصوص الکٹرک بسوں کی خریداری کے معاملہ میں اپنے طور پر فیصلہ کرتے ہوئے راست خریدی انجام دینے لگی ہے جبکہ کارپوریشن میں بسوں کی خریداری کارپوریشن کے ذریعہ کی جانی چاہئے تاکہ وہ کارپوریشن کی ملکیت رہ سکے۔بتایا جاتا ہے کہ ریاست تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے 2500 کروڑ روپئے ادا شدنی ہے اور ان بقایاجات کی اجرائی کے سلسلہ میں آرٹی سی کی جانب سے متعدد مرتبہ نمائندگیاں کی جاچکی ہیں اس کے باوجودحکومت نے یہ بقایا جات جاری نہیں کئے جو کہ انتہائی افسوسناک ہے۔ یونین قائدین کے مطابق 24 فروری کو منعقد کئے جانے والے ’چلو سیکریٹریٹ‘ احتجاجی پروگرام میں جو کلیدی مطالبات ہیں ان میں آر ٹی سی ملازمین کو ریاستی سرکاری ملازمین میں ضم کرنے کے اقدامات کی عاجلانہ تکمیل کو یقینی بنانے کے علاوہ مہا لکشمی اسکیم کے تحت خواتین کو مفت بس خدمات کی فراہمی کے بقایاجات کی بروقت ادائیگی کے ساتھ ساتھ آر ٹی سی کے دیگر مسائل کو فوری طور پر حل کرنا شامل ہے۔ انہو ںنے بتایا کہ اس سلسلہ میں آرٹی سی یونینوں کی جانب سے حکومت کے ذمہ داروں کو واقف کروایا جاچکا ہے۔3