اندور اور اجین میں زبردست حمایت حاصل ہوئی : جئے رام رمیش
اجین : سابق مرکزی وزیر اور کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے مدھیہ پردیش حکومت پر راہول گاندھی کی ‘بھارت جوڑو یاترا’ میں رکاوٹیں پیدا کرنے کا الزام لگاتے ہوئے آج کہا کہ اس کے باوجود ریاست میں یاترا امید سے زیادہ کامیاب ہوئی ہے ۔ رمیش مدھیہ پردیش کے یاترا کیمپ کے اجین ضلع کے نظر پور میں نامہ نگاروں سے بات چیت کر رہے تھے ۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ برہان پور سے اجین تک یاترا کو تعاون ملا ہے ۔ کانگریس کے علاوہ دیگر لوگوں نے بھی بڑی تعداد میں یاترا میں شرکت کی۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ اندور اور اجین میں یاترا کو بے مثال حمایت حاصل ہوئی۔ مدھیہ پردیش میں اس یاترا کو توقع سے زیادہ تعاون ملا ہے ۔اس سلسلے میں انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کی رکاوٹوں کے باوجود یہ نتیجہ سامنے آیا ہے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کرناٹک اور مدھیہ پردیش میں یاترا کا حوصلہ کم کرنے کے لیے مختلف طریقے اپنائے گئے ۔ اندور میں پوسٹر نکالے گئے ۔ ایک معاملہ میں ایف آئی آر بھی درج کی گئی۔ اس یاترا کو کئی بار تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کے باوجود یہ یاترا بہت کامیاب رہی ہے ۔ اس کا کریڈٹ ریاستی کانگریس کمیٹی کو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاستی یونٹ نے اس یاترا کو کامیاب بنانے کے لیے متحد ہو کر کام کیا ہے ۔انہوں نے ریاست کی سڑکوں کے بہانے ریاستی حکومت پر شدید حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش میں یاترا میں سب سے بڑا مسئلہ سڑکوں کا تھا۔ اندور کے علاوہ باقی تمام جگہوں پر چلنے میں سب کو کافی دقت ہوئی۔ انہوں نے بنیادی طور پر برہان پور، کھنڈوا اور کھرگون کی سڑکوں پر ریاستی حکومت پر طنز کیا۔یہ یاترا گزشتہ 23 تاریخ کو برہان پور ضلع سے مدھیہ پردیش کی سرحد میں داخل ہوئی تھی۔ ریاست میں یاترا کا آج نواں دن ہے ۔ یاترا کے دوران مسٹر گاندھی نے کھنڈوا ضلع میں اومکاریشور اور اجین میں شری مہاکلیشور مندر میں درشن کئے ۔ یہ یاترا 4 دسمبر کو راجستھان کی سرحد میں داخل ہوگی۔