حکومت کی سطح پر تھلیسمیا کے علاج کیلئے خصوصی ہاسپٹلس کی ضرورت

   

3000 معصوم بچوں کی زندگی بچانا قابل ستائش ، ریونت ریڈی نے بلڈ ڈونیشن کیمپ کا معائنہ کیا

حیدرآباد۔/2 جنوری، ( سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے تھلیسمیا مریضوں کے علاج کیلئے حکومت کی سطح پر اسپیشالیٹی ہاسپٹلس کے قیام کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ تھلیسمیا کے مریضوں کو تاحیات ہر پندرہ تا دن میں خون کی تبدیلی ضروری ہوتی ہے ایسے میں حکومتوں کے تعاون کے بغیر خانگی سوسائٹی کی جانب سے خدمات کی انجام دہی قابل ستائش ہے۔ آرام گھر کے علاقہ میں واقع تھلیسمیا سکل سیل سوسائٹی کی جانب سے منعقدہ بلڈ ڈونیشن کیمپ کا معائنہ کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے تھلسیمیا کے شکار معصوم بچوں سے ملاقات کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ گزشتہ تین دہوں سے سرگرم سیاست میں ہیں لیکن انہیں تھلیسمیا کے مرض اور اس کے علاج کے بارے میں معلومات نہیں ہیں۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ مریضوں کو ہر 15 تا 20 دن میں خون کی تبدیلی لازمی طور پر کرنے کے باوجود اس کام میں حکومت کا کوئی تعاون نہیں ہے۔ سوسائٹی کی جانب سے 3000 معصوم بچوں کی زندگی بچانے کیلئے بلڈ ڈونیشن کیمپ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ جب حکومت اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام رہے تو سیول سوسائٹی کو آگے آنا چاہیئے یہی کام تھلیسمیا سوسائٹی کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے سال کے آغاز پر انہیں تھلسیمیا کے مریضوں کیلئے بلڈ ڈونیشن کیمپ کے مشاہدہ کا موقع ملا۔ انہوں نے کہا کہ 2016 پارلیمنٹ ایکٹ کے تحت تھلسیمیا کے مریضوں کو ماہانہ پنشن دیا جانا چاہیئے لیکن تلنگانہ حکومت اس پر عمل نہیں کررہی ہے۔ وہ اس سلسلہ میں حکومت کو مکتوب روانہ کریں گے اور پارلیمنٹ میں اس مسئلہ کو اٹھائیں گے۔ بلڈ کیمپ میں 177 نوجوانوں نے خون کا عطیہ دیا جو قابل مبارکباد ہیں۔ کانگریس کارکنوں اور میرے چاہنے والوں سے میں اپیل کروں گا کہ وہ تھلیسمیا کے شکار معصوم بچوں کی مدد کیلئے خون کا عطیہ دیں۔ انہوں نے کارپوریٹ کمپنیوں سے سی ایس آر فنڈز کی فراہمی کا تیقن دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ رکن پارلیمنٹ ترقیاتی فنڈ سے بھی تعاون کی کوشش کریں گے بشرطیکہ قواعد کے تحت یہ ممکن ہو۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ عوام کو تھلسیمیا کے علاج کے بارے میں واقف کرانے کی ضرورت ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ نوجوان خون کا عطیہ دے کر معصوموں کی جان بچاسکیں۔ر