حکومت کی طرف سے اراولی پہاڑی کی نئی تعریف حیران کن ہے :کانگریس

   

نئی دہلی، 27 نومبر (یو این آئی) کانگریس پارٹی نے کہا ہے کہ مرکزی وزارت ماحولیات نے اراولی پہاڑیوں کی نئی تعریف صادر کی ہے ، جو سپریم کورٹ میں قبول کی گئی ہے ۔ جس کی وجہ سے ان پہاڑیوں کے 90 فیصد حصے کو اب اراولی شمار نہیں کیا جائے گا۔ بہتر مستقبل کیلئے اس حیران کن فیصلے پر فوری نظرثانی کی ضرورت ہے ۔ کانگریس کے میڈیا سیل کے انچارج جے رام رمیش نے جمعرات کے روز سوشل میڈیا پر لکھا کہ اراولی کی پہاڑیاں دہلی سے ہریانہ اور راجستھان سے ہوتی ہوئی گجرات تک پھیلی ہوئی ہیں۔ گزشتہ چند سالوں کے دوران، ان پہاڑیوں کو کان کنی، تعمیرات اور دیگر سرگرمیوں سے نقصان پہنچا ہے ، جو قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کی گئی ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ اب ایسا لگتا ہے کہ اس حساس اور وسیع ماحولیاتی نظام کو پھر سے شدید جھٹکا لگنے والا ہے۔ ایک خبر کے مطابق، مرکزی وزارت ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی نے سپریم کورٹ کو اراولی پہاڑیوں کی نئی تعریف پیش کی ہے ۔ اس تعریف کا مقصد کان کنی پر پابندی لگانا ہے۔
لیکن حقیقت میں، اس کا مطلب یہ ہوگا کہ 90 فیصد حصہ اب اراولی پہاڑی شمار نہیں کیا جائے گا۔ عدالت عظمی نے اس نظر ثانی شدہ تعریف کو قبول کر لیا ہے ۔
یہ نئی تعریف نامزد اضلاع میں ان اراضی کو “اراولی پہاڑیوں” کے طور پر درجہ بندی کرتی ہے جو ان کے مقامی سطح سے کم از کم 100 میٹر بلند ہو۔
کانگریس لیڈر نے اسے حیران کن صورتحال قرار دیتے کہا کہ اس کے ماحولیات اور صحت عامہ کے لیے سنگین نتائج ہوں گے ۔ اس پر فوری نظرثانی کی ضرورت ہے ۔