وادی کشمیر کو خشک میووں کی پیداوار میں کافی مشہور مانا جاتا ہے مگر رواں سال حکومت کی لا پرواہی کے باعث خشک میووں کی فصلیں مسلسل زوال پذیر ہوتی جارہی ہیں۔ خشک میووں کی منڈی نہ لگنے کی وجہ سے یہ صنعت زوال پذیر ہو رہی ہے۔
بتایا جا رہا ہے کہ اس زوال کو بچانے کےلیے لوگ اپنے طریقہ پر کوشش کر رہے ہیں مگر حکومت وقت کے جانب سے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں، کچھ عرصوں سے ضلع پلوامہ میں اخروٹ کےلیے خصوصی گودام قائم کئے گئے ہیں، جہاں اخروٹ کو صاف کرکے اسکی پیکنگ کی جاتی ہے، لیکن حکومت کی لاپرواہی کی وجہ سے صنعت ہر سال نقصان سے دو چار ہو رہی ہے۔ کسانوں کو مارکیٹ کی سہولیات کےلیے جموں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔
ایک مقامی میوہ کاشتکار نثار احمد نے میڈیاء سے بات کرتے ہوئے کہا کہ” افسوس کی بات یہ ہے کہ کشمیر میں خشک میووں کی پیداوار کے باوجود اسکے لیے کوئی منڈی نہیں بنی ہے، اگر منڈی بن جائے تو ہمیں اس کی ترقی کےلیے کافی مدد ملے گی۔ اب حالات یہاں تک ہوگئے ہیں کہ اگر کسی کے پاس تھوڑا سا بھی مال ہوتا ہے تو وہ اسے فروخت کےلیے سیدھے جموں چلا جاتا ہے۔
ایک یونٹ ہولڈر اشفاق احمد نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کوئی اچھا سا مارکیٹ نہ ہونے کی وجہ سے اسکی کوالٹی گر رہی ہے،اور حکومت بھی کوئی مدد نہیں کر رہی ہے، مگر جب جی ایس ٹی لاگو کیا گیا تو ہم نے سوچا کہ حکومت کچھ تو کرے گی مگر وہاں بھی مایوسی ملی۔
اور لوگوں کے متعارف کےلیے سرینگر میں طرح طرح کے پودے اگائے جا رہے ہیں، اعجاز احمد نامی ایک ڈائریکٹر نے بتایا کہ مارکیٹ سرینگر میں قائم کی جارہی ہے۔
