فرقہ پرست طاقتیں شاہین باغ کی مقبولیت سے بوکھلاہٹ کا شکار، جمعیۃ العلماء بیدر
بیدر۔31؍جنوری۔(سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)۔مولانامحمدتصدق ندوی جنرل سکریٹری جمعیت علماء بیدر نے ایک صحافتی بیان میں کہا کہ جشن یوم جمہوریہ کو موقع پر شاہین اسکول بیدر میں طلبہ کے ایک ڈرامہ کو بنیاد بنا کر اسکول انتظامیہ کے خلاف غداری کا مقدمہ دائر کرنا جمہوری ملک میں حق کی آواز کو دبانے کی ناکام کوشش ہے،ملک کا کونسا ایسا شہر ہے جہاں سیاہ قانون این پی آر ، این آر سی ، سی اے اے کے خلاف صدائے احتجاج بلند نہ کیا جارہا ہو،پورا ملک سراپا احتجاج بنا ہو ہے ،اسی طرح کا احتجاج ڈرامہ کی شکل میں شاہین اسکول بیدر میں طلبہ کی طرف سے ہوا ہے تو اسمیں کونسی تشویش ناک اور واویلہ مچانے کی بات ہے ،حکومت کی غلط پالیسیوں کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنا ملک کے باشندگان کا جمہوری حق ہے،یہ حربے صرف اور صرف ڈراور خوف کا ماحول پیدا کرنے لئے کئے جارہے ہیں ،ان بزدلانہ حرکتوں سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت خود اس وقت خوفزدہ ہے اور اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے نت نئے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے،اس سے قبل اسی طرح کا ڈرامہ بابری مسجد کے انہدام سے متعلق اسی ریاست کے منگلور شہر میں آر ایس ایس کے اسکول میں طلبہ نے پیش کیا تھااس پر آج تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی،گویا کہ حکومت اور انتظامیہ کو سانپ سونگھ گیا ہے جمہوری ملک میں اس طرح کی ایک طرفہ کاروائی تعجب خیزاور جمہوریت پر بدنما داغ ہے ،اسی معاملہ میں بیدر کے ایک مشہور صحافی کو بھی ماخوذ کیا گیا ہے جنہوں نے فیس بک پر اس ویڈیو کو اپلوڈ کیا تھا ،اس طرح کی بے شمار ویڈیوز فیس بک پر بھری پڑے ہیں ،سوال یہ ہے کہ آخر انکے خلاف کیوں کاروائی نہیں کی جاتی ہے،ان حرکتوں سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت صرف اقلیتوں کو نشانہ بنا رہی ہے،جسکی وجہ سے حکومت سے اقلیتوں کا اعتماد ختم ہوتا چلا جارہا ہے،مولانا ندوی نے مزید فرمایا کہ یہ بات روزروشن کی طرح عیاں ہے کہ ملک میں شاہین ادارہ جات کی خدما ت بلا تفریق مذہب مثالی و ناقابل فراموش ہیںجہاں ملک بھر کے ہزاروں طلبہ وطالبات ہندو ،مسلم،سکھ،عیسائی،دلت بہترین تعلیم وتربیت سے آراستہ ہورہے ہیں، ہر سال سیکڑوں طلبہ و طالبات فری میڈیکل سیٹ حاصل کرکے اپنے مستقبل کو سنوار رہے ہیں اور ملک کا نام روشن کر رہے ہیں ،اس بے جا کاروائی سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ فرقہ پرست کو شاہین ادارہ جات کی بے مثال ترقی اوردنیا بھر میں مقبولیت ہضم نہیں ہورہی ہے،اس لئے اپنی بھڑاس نکالنے کے لئے ایسی گھٹیاحرکتوں پراتر آئے ہیں،اس وقت ملک بھر کے تمام تعلیمی اداروں اور سیکولر ہندو بھائیوں کو چاہے کہ وہ شاہین ادارہ جات کی بھرپور حمایت میں آئیں اور اسکا سپورٹ کریں اور حکومت کو بتائیں کہ ملک کے تعلیمی اداروں کے ساتھ ایسی سازشیں ہرگز برداشت نہیں کی جائیں گی۔