تلنگانہ ہائیکورٹ کا ریمارک ، تیسری لہر سے نمٹنے حکومت کے رویہ پر اظہار برہمی، اندرون ہفتہ منصوبہ بندی کی ہدایت
حیدرآباد۔8 ۔ستمبر (سیاست نیوز) ریاست میں کورونا کی صورتحال پر تلنگانہ ہائی کورٹ میںآج سماعت ہوئی۔ ڈائرکٹر میڈیکل ہیلت نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ کورونا کی امکانی تیسری لہر سے نمٹنے کیلئے حکومت نے حکمت عملی تیار کرلی ہے ۔ ایڈوکیٹ جنرل بی ایس پرساد نے بتایا کہ ماہرین کی کمیٹی کا اجلاس ابھی تک منعقد نہیں ہوسکا۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کی ادویات کو لازمی ادویات کی فہرست میں شامل کرنے کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ عدالت نے مرکز اور ریاستی حکومت کے رویہ پر ناراضگی کا اظہار کیا ۔ عدالت نے کہا کہ حکومت کی منصوبہ بندی اور اقدامات تک کورونا وائرس انتظار نہیں کرے گا۔ عدالت نے کہا کہ تیسری لہر کے امکانات کے سلسلہ میں ماہرین کی جانب سے انتباہ دیا گیا ہے۔ کئی ریاستوں میں کورونا کیسس میں اضافہ درج کیا گیا۔ عدالت نے کہا کہ سابقہ تجربات کے پیش نظر کورونا سے نمٹنے کے اقدامات کئے جائیں۔ عدالت نے اس بات پر برہمی کا اظہار کیا کہ اس کے کہنے کے باوجود ماہرین کی کمیٹی کا اجلاس ابھی تک طلب نہیں کیا گیا۔ عدالت نے کہا کہ آرٹی پی سی آر ٹسٹ اور کیسس کی پازیٹیو شرح پر نظر رکھتے ہوئے اندرون ایک ہفتہ امکانی تیسری لہر سے نمٹنے کی حکمت عملی تیار کی جائے ۔ عدالت نے اندرون ایک ہفتہ ماہرین کا اجلاس طلب کرنے کی بھی ہدایت دی۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ بچوں کے علاج کیلئے درکار بستروں اور دیگر انفراسٹرکچر کا انتظام کیا جائے ۔ عدالت نے کہا کہ احکامات پر عمل آوری نہ کرنے کی صورت میں ڈائرکٹر پبلک ہیلت اور مرکز کے نوڈل آفیسر کو عدالت میں حاضر ہونا چاہئے ۔ اس مقدمہ کی آئندہ سماعت 22 ستمبر کو ہوگی۔ عدالت نے کہا کہ کورونا کے سبب کئی افراد کی موت واقع ہوئی ہے اور حکومت کو سابقہ تجربات بھولنا نہیں چاہئے ۔ مرکز اور ریاستی حکومتوں کو علحدہ طور پر اقدامات کرنے چاہئے۔ عدالت نے کہا کہ جنگاؤں ، کاما ریڈی ، نلگنڈہ اور کھمم میں کورونا پازیٹیو کی شرح ایک فیصد سے زائد ہے۔ R