اپوزیشن کے بعد میڈیا کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے
حیدرآباد ۔13 ۔ جنوری (سیاست نیوز) بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے کہا کہ حکومت کی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے اور ان سے عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے چیف منسٹر کی جانب سے تحقیقات کے نام پر اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (سیٹ) تشکیل دیتے ہوئے اپوزیشن کو ڈرانے دھمکانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ خاتون آئی اے ایس آفیسر اور چیف منسٹر ریونت ریڈی کی فوٹو کو قابل اعتراض انداز میں پیش کرنے کے خلاف اس کی تحقیقات کیلئے ایس آئی ٹی تشکیل دی گئی۔ آج سوشیل میڈیا کے پلیٹ فام ایکس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ ریاست میں کئی عوامی مسائل ہیں ، اس کو حل کرنے میں حکومت پوری طرح ناکام ہوچکی ہیں۔ کے ٹی آر نے کہا کہ ریاستی حکومت ، وزراء اور ان کے پی اے ، وزراء کے بچے ، اے آئی سی سی سکریٹریز کے خلاف الزامات عائد ہونے پر کسی قسم کی تحقیقات نہیں کرائی گئی اور نہ ہی ایس آئی ٹی تشکیل دی گئی۔ صرف میڈیا اور ٹیلی ویژن چیانلس کو ڈرانے ، دھمکانے کیلئے متذکرہ دو معاملات میں سیٹ تشکیل دینا غیر دستوری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی نیوز کئی چیانلس اور سوشیل میڈیا ہینڈلس پر چلی ہیں لیکن ان پر کوئی توجہ نہیں دی گئی، مخصوص میڈیا کو نشانہ بنانے کی وہ سخت مذمت کرتے ہیں۔ صرف ایک نیوز چلانے پر ٹی وی چیانل کے خلاف تحقیقات کیلئے ایس آئی ٹی تشکیل دینا غیر قانونی ہے۔ حکومت کی جانب سے اپنی ناکامیوں کو چھپانے کیلئے نئے نئے ڈرامے کئے جارہے ہیں۔ عوام اندازہ کر رہے ہیں کہ حکومت اوور ایکشن کر رہی ہیں، لہذا وہ چیف منسٹر‘ ڈی جی پی سے اپیل کرتے ہیں کہ حساس مسائل کو متنازعہ بنانا نہیں چاہئے۔ جو بھی غلطیاں ہوئی ہیں ، اس کے خلاف کارروائی کریں مگر انتقامی کارروائی ہرگز نہیں ہونی چاہئے۔ حکومت سے سوال کرنے والوں پر مقدمے درج کئے جارہے ہیں ، جیل بھیجا جارہا ہے ، اسمبلی میں اپوزیشن کی آواز کو دبایا جارہا ہے ۔ اب میڈیا کو خاموش کرانے کیلئے ایس آئی ٹی تشکیل دی گئی جس کی بی آر ایس پارٹی سخت مذمت کرتی ہے۔2