سابقہ حکومت میں معمولی واقعات پر واویلا مچانے والے چیف منسٹر کی مداح سرائی میں مصروف ،علی مسقطی کا ردعمل
حیدرآباد۔7۔فروری (سیاست نیوز) تلنگانہ میں ریاستی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہونے کے باوجود بعض سیاسی مفادات حاصلہ ملت کا سودا کرتے ہوئے کانگریس کی تائید کررہے ہیں ۔ جناب علی مسقطی بی آر ایس قائد نے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کو مسلم تنظیم کے مشاورتی اجلاس میں مدعو کرتے ہوئے ریاست بھر کے مسلمانوں کو عین بلدی انتخابات سے قبل گمراہ کئے جانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ملی تنظیموں کی جانب سے کئے جانے والے یہ اقدامات ملت کی رسوائی کا سبب بن رہے ہیں ۔ جناب علی مسقطی نے شہر حیدرآباد میں منعقد ہونے والے اجلاس میں چیف منسٹر کی شرکت کو مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ میں گذشتہ 2برسوں میں ہونے والے فرقہ وارانہ نوعیت کے واقعات ‘ مسلم قبرستانوں کی مسماری‘ مسجد جاگیردار کی شہادت ‘ اقلیتی بجٹ کی اجرائی میں ناکامی کے مسائل کو پیش کرنے کے بجائے چیف منسٹر کی مدح سرائی کرتے ہوئے یہ باور کروانے کی کوشش کی گئی جو کہ انتہائی قابل مذمت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بی آر ایس کے دور اقتدار میں معمولی واقعات پر واویلا کرنے والے اب چیف منسٹر کی مدح سرائی کرتے ہوئے ملت اسلامیہ کو گمراہ کر رہے ہیں۔ جناب علی مسقطی نے جوبلی ہلز ضمنی انتخابات سے قبل چیف منسٹر سے ملاقات کرنے والے وفود کے علاوہ اجلاس منعقد کرتے ہوئے چیف منسٹر کو مدعو کرنے والوں سے استفسار کیا کہ آیا وہ جینور کے مسلمانوں کو فراموش کرچکے ہیںیا حکومت نے ان فسادات کے متاثرین کو معاوضہ ادا کردیا ہے! انہوں نے مزید استفسار کیا کہ آیا جوبلی ہلز میں مسلمانوں کے لئے قبرستان کی اراضی کی تخصیص کرنے کے وعدہ کو پورا کردیا گیا! جناب علی مسقطی نے کہا کہ ریاستی حکومت سے سوال کرنے کے بجائے حکومت کی مدح سرائی کے ذریعہ مسلمانوں کی رسوائی کا سبب بننے والی تنظیموں اور جماعتوں کے ذمہ داروں کو چاہئے کہ وہ حکومت کی چاپلوسی کرنے کے بجائے عوامی احساسات کے ترجمان بنیں اور عوام میں پھیلی ہوئی ناراضگی سے حکومت کو واقف کروانے کے اقدامات کریں۔ بی آر ایس قائد نے ریاست میں مسلمانوں کی صورتحال اور انہیں نظرانداز کئے جانے کے معاملات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت مسلمانوں کے لئے اسکیمات کے آغاز کے محض اعلانات کر رہی ہے جبکہ حقیقت میں ان اسکیمات پر عمل آوری میں ہونے والی تاخیر کے ذریعہ اقلیتوں کو محروم طبقات میں شامل کرنے کی کوشش کی جار ہی ہے۔3