شہری علاقوں میں انفراسٹرکچر سے روزگار کے مواقع، بی آر ایس اور بی جے پی میں خفیہ مفاہمت کا الزام
حیدرآباد 10 فروری (سیاست نیوز) وزیر ٹرانسپورٹ پونم پربھاکر نے عوام سے اپیل کی کہ حکومت کی 2 سالہ کارکردگی پر بلدی انتخابات میں کانگریس امیدواروں کو آشیرواد دیں۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے پونم پربھاکر نے کہاکہ جمہوریت میں ووٹ عوام کا نہ صرف بنیادی حق ہے بلکہ اپنی پسند کے نمائندوں کو منتخب کرنے کا ایک عظیم ہتھیار ہے۔ ووٹ کے بہتر استعمال کے ذریعہ ترقیاتی اور فلاحی منصوبوں پر عمل آوری کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ شہری علاقوں کے مقابلہ دیہی علاقوں میں رائے دہی کا رجحان بہتر رہا ہے۔ پنچایت چناؤ میں 90 فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی۔ اِسی طرح شہری علاقوں کے رائے دہندوں کو بھی زیادہ سے زیادہ رائے دہی میں حصہ لیتے ہوئے اپنے علاقوں کے لئے بہتر نمائندوں کا انتخاب کرنا چاہئے۔ اُنھوں نے کہاکہ کانگریس پارٹی نے شہری اور دیہی علاقوں کی ترقی کے لئے جامع منصوبہ تیار کیا ہے۔ پنچایت راج اداروں کے لئے خصوصی فنڈس جاری کئے گئے۔ بلدی انتخابات کے بعد میونسپلٹیز اور کارپوریشنوں کے ترقیاتی منصوبوں پر عمل کیا جائے گا۔ اُنھوں نے کہاکہ بنیادی انفراسٹرکچر کی فراہمی کے ذریعہ شہری معیشت کو نہ صرف مستحکم کیا جاسکتا ہے بلکہ نوجوانوں کے لئے روزگار کے نئے مواقع فراہم ہوں گے۔ اُنھوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سوجھ بوجھ کے ساتھ اپنے ووٹ کے بارے میں فیصلہ کریں۔ پونم پربھاکر نے الزام عائد کیاکہ گزشتہ 10 برسوں میں بی آر ایس حکومت نے ایک بھی ڈبل بیڈ روم مکان منظور نہیں کیا جبکہ کانگریس حکومت نے ہر اسمبلی حلقہ میں 3500 مکانات کی منظوری دی ہے۔ حسن آباد ٹاؤن میں 600 مکانات منظور کئے گئے۔ اُنھوں نے کہاکہ کوئی بھی غریب اور مستحق خاندان مکان اور راشن کارڈ سے محروم نہیں رہے گا۔ کانگریس کی عوامی حکومت ترقی اور فلاح و بہبود پر یکساں عمل پیرا ہے۔ خواتین کے لئے آر ٹی سی میں مفت سفر کی سہولت اور غریب خاندانوں کو 200 یونٹ مفت برقی سربراہی نے کانگریس کی مقبولیت میں غیرمعمولی اضافہ کیا ہے۔ اُنھوں نے بی آر ایس اور بی جے پی میں خفیہ مفاہمت کا الزام عائد کیا اور کہاکہ پارلیمنٹ چناؤ میں بی آر ایس نے اپنا ووٹ بی جے پی کو منتقل کیا تھا جس کے نتیجہ میں 8 نشستوں پر بی جے پی کامیاب رہی اور بی آر ایس صفر ہوگئی۔ اُنھوں نے مرکز کی جانب سے تلنگانہ کے ساتھ مسلسل ناانصافی کی شکایت کی اور الزام عائد کیاکہ تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے مرکزی وزراء اِس بارے میں اپنا رول ادا کرنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔1