سرکاری احکامات کی خلاف ورزی پر عدالت سے رجوع ہونے محترمہ لبنیٰ ثروت کا اعلان
حیدرآباد۔11اکٹوبر(سیاست نیوز) ریاستی حکومت کی جانب سے شفاف حکمرانی کے دعوے کئے جارہے ہیں لیکن حکومت نے آن لائن سرکاری احکامات کی اجرائی پر لگائی جانے والی روک کو ہٹانے کے سلسلہ میں اب تک کوئی اقدامات نہیں کئے ہیں اور نہ ہی انفارمیشن ٹکنالوجی کے فروغ کا دعوی کرنے والی حکومت کی جانب سے سرکاری احکام کو عوام تک پہنچانے کے سلسلہ میں کوئی پیشرفت کی گنجائش رکھی گئی ہے بلکہ حکومت جن احکامات کو جاری کرنے کے سلسلہ میں سنجیدہ ہے بس ان احکامات کو ہی ویب سائٹ کے ذریعہ جاری کرنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں جبکہ روزمرہ کے جو احکام جاری کئے جاتے ہیں انہیں ویب سائٹ پر ڈالنے سے اجتناب کیا جا رہاہے تاکہ کسی بھی جی او کا راست عوام کو علم نہ ہوسکے کیونکہ عوامی مفادات سے ٹکرانے والے سرکاری احکامات کے خلاف عوام کو عدالت سے رجوع ہونے کا اختیار حاصل ہے اور حکومت کی جانب سے کئے جانے والے ان فیصلوں سے جب خود عوام واقف نہیں ہوں گے تو وہ کیا ان فیصلوں کے خلاف عدالت سے رجوع ہوں گے۔ حکومت کی جانب سے جی۔او کی اجرائی اور اسے عوامی پورٹل پر جاری نہ کئے جانے کی پالیسی کے خلاف محترمہ لبنی ثروت کے علاوہ دیگر کئی تنظیموں اور سماجی کارکنوں نے متعدد مرتبہ نمائندگی کی اور حکومت سے خواہش کی کہ وہ قانون حق آگہی کی تمام دفعات پر مؤثر طریقہ سے عمل آوری کو یقینی بنائیں لیکن اس کے باوجود اب تک بھی کوئی کاروائی انجام نہیں دی گئی اور جی۔اوز کو عوام کے درمیان پہنچانے کا عمل جوں کا توں مفلوج ہے۔ قانون حق آگہی کی شق 4 کے مطابق حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ عوام تک اتنی معلومات کو پہنچاتے رہیں کہ عوام کو قانون حق آگہی کے استعمال کے ذریعہ درخواست داخل کرتے ہوئے معلومات حاصل کرنے کی ضرورت محسوس نہ ہو لیکن تلنگانہ میں روزمرہ کے جی اوز کو تک جاری نہیں کیا جا رہاہے اور عوام تک اس کی اطلاع نہیں پہنچائی جا رہی ہے جس کے سبب حکومت کی کارکردگی وہی معلوم ہورہی ہے جو حکومت معلوم کروانا چاہتی ہے اور ان اطلاعات کو حکومت کی جانب سے عوام میں پہنچنے ہی نہیں دیا جا رہا ہے جو اطلاعات حکومت عوام میں لانے کے حق میں نہیں ہے۔حکومت کی جانب سے آن لائن جی ۔ او کی اجرائی کا سلسلہ گذشتہ کئی برسوں سے ترک کیا گیا ہے اور متعدد نمائندگیوں کے باوجود بھی حکومت کی جانب سے اس معاملہ کو نظرانداز کرنے کی پالیسی اختیار کی گئی ہے۔