سی پی آئی کے قومی سکریٹری ڈاکٹر نارائنا کا استدلال، کانگریس کیلئے ریونت ریڈی کی قیادت کامیاب رہے گی
حیدرآباد۔28 ۔جولائی (سیاست نیوز) سی پی آئی کے قومی سکریٹری ڈاکٹر کے نارائنا نے کہا کہ حضور آباد اسمبلی حلقہ کے ضمنی چناؤ میں سہ رخی مقابلہ رہے گا اور سی پی آئی نے کسی امیدوار کی تائید یا مقابلہ کرنے کے بارے میں تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر اور بعض دیگر قائدین ٹی آر ایس کو اپنی ذاتی ملکیت تصور کر رہے ہیں جس کے نتیجہ میں پارٹی قائدین میں ناراضگی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر نے علحدہ تلنگانہ کیلئے تحریک کا آغاز کیا اور پارٹی کا قیام عمل میں لایا لیکن پارٹی نے تلنگانہ تحریک کے بجائے متحدہ آندھرا کے حامیوں کو اہمیت دی جارہی ہے ۔ کابینہ میں 5 وزراء کو چھوڑ کر باقی تمام وزراء متحدہ ریاست کی تائید کرنے والے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ علحدہ تلنگانہ کے حقیقی نمائندوں کو حکومت اور پارٹی میں نظر انداز کیا گیا ہے ۔ ڈاکٹر نارائنا نے سابق وزیر ایٹالہ راجندر کی ٹی آر ایس سے علحدگی کا حوالہ دیتے ہوئے راجندر ابتداء میں آزاد امیدوار کے طورپر مقابلہ کے حق میں تھے لیکن ان پر مقدمات اور ہراسانی سے پریشان ہوکر بحالت مجبوری بی جے پی میں شامل ہوگئے۔ راجندر کی بی جے پی میں شمولیت کیلئے کے سی آر ذمہ دار ہیں ، اگر انہیں مقدمات کے ذریعہ ہراساں نہ کیا جاتا تو وہ آزاد امیدوار کے طور پر برقرار رہتے ۔ نارائنا نے کہا کہ پردیش کانگریس کے صدر کے انتخاب میں تاخیر راجندر کی بی جے پی میں شمولیت کی دوسری وجہ ہے ۔ اگر ریونت ریڈی کے نام کا پہلے ہی اعلان کردیا جاتا تو شائد راجندر بی جے پی کے بجائے کانگریس میں ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ راجندر کی بی جے پی میں شمولیت کی سی پی آئی مخالفت کرتی ہے اور انہیں فائدہ سے زیادہ نقصان ہوگا۔ راجندر اچھی شخصیت ضرور ہیں لیکن بی جے پی میں شمولیت کے سبب ان کی تائید نہیں کی جاسکتی۔ انہوں نے کہا کہ حضور آباد کے ضمنی چناؤ میں بی جے پی اور مرکز کی جانب سے بھاری رقم خرچ کی جاسکتی ہے ۔ ابھی تک 100 کروڑ روپئے حضور آباد کے لئے منتقل کئے جاچکے ہیں۔ دوسری طرف کے سی آر کے پاس انتخابات میں کوئی اصول نہیں بلکہ کامیابی کے لئے وہ کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔ حضور آباد ضمنی چناؤ کے پیش نظر چیف منسٹر کو دلتوں کا خیال آیا ہے۔ دلت بندھو اسکیم کا حضور آباد سے آغاز سیاسی مقصد براری کا کھلا ثبوت ہے۔ دلتوں کو 10 لاکھ روپئے کی فراہمی کی اسکیم سدی پیٹ سے شروع کیوں نہیں کی گئی۔ نارائنا نے کہا کہ حضور آباد میں راجندر کے حق میں ہمدردی کی لہر اور ریونت ریڈی کے پی سی سی صدر بننے کے بعد سہ رخی مقابلہ یقینی ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں نارائنا نے کہا کہ ریونت ریڈی کے انتخاب سے کانگریس کو فائدہ ہوگا اور پارٹی کے سینئر قائدین ان سے مکمل تعاون کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریونت ریڈی کی قیادت کانگریس کے لئے کامیاب ثابت ہوگی۔