بی سی اور ایس سی کمیشن کیلئے کئی سفارشات ، اقلیتی کمیشن اور دیگر اداروں پر عنقریب تقررات کا امکان
حیدرآباد: تلنگانہ میں یونیورسٹیز کے وائس چانسلرس اور پبلک سرویس کمیشن کی تشکیل کے بعد حکومت کے دیگر اداروں میں نامزد عہدوں کے لئے قائدین کی سرگرمیاں تیز ہوچکی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر عنقریب بعض کارپوریشنوں اور بورڈس پر تقررات کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے اس سلسلہ میں وزراء سے ہر ضلع میں متحرک قائدین کی فہرست طلب کی ہے۔ ایسے قائدین کو نامزد عہدوں میں ترجیح دی جائے گی جنہیں 2014 ء کے بعد سے کوئی سرکاری عہدہ نہیں دیا گیا۔ چیف منسٹر کا کہنا ہے کہ تلنگانہ تحریک میں حصہ لینے والے کئی قائدین اور کارکن آج تک سرکاری عہدوں سے محروم رہے ۔ لہذا 2023 ء انتخابات سے قبل تمام مستحق قائدین کو کسی نہ کسی ادارہ نے نمائندگی دی جائے گی ۔ پبلک سرویس کمیشن کی تشکیل اگرچہ ہائی کورٹ کے احکامات کے تحت عمل میں آئی ہے لیکن ریاست میں تین ایسے ادارے مخلوعہ ہیں جو دستوری موقف رکھتے ہیں۔ بی سی کمیشن ، اقلیتی کمیشن اور او بی سی کمیشن کے صدرنشین اور ارکان کے عہدوں کے لئے چیف منسٹر کو وزراء کی جانب سے کئی ناموں کی سفارش کی گئی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ سرکاری عہدوں میں اس مرتبہ وفادار قائدین کو موقع دیا جائے گا ۔ بی سی کمیشن کے صدرنشین کی حیثیت سے سبکدوش ہونے والے بی ایس راملو دوسری میعاد کے لئے کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس سلسلہ میں چیف منسٹر کو تک اپنی خواہش کا اظہار کردیا ہے۔ 2 سال قبل بی سی کمیشن کے صدرنشین اور چار ارکان کی میعاد مکمل ہوگئی۔ اطلاعات کے مطابق تحلیل شدہ کمیشن کے دو ارکان صدارت کی دوڑ میں ہیں۔ موسٹ بیکورڈ کلاسس کارپوریشن ، ایس سی کمیشن ، بیوریجس کارپوریشن ، روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے علاوہ بعض اقلیتی ادارے بھی صدرنشین سے محروم ہیں۔ چیف منسٹر مشن 2023 ء کے تحت کابینہ اور نامزد عہدوں پر ایسی ٹیم تیار کرنا چاہتے ہیں جو پارٹی کے دوبارہ اقتدار میں معاون ثابت ہوگی۔