نئی دہلی : راجدھانی دہلی کے عوام پانی کی ایک بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔ اگر یہی حالات رہے تو مزید پریشانیاں بڑھ جائےگی۔ حکومت کے پاس پیاس بجھانے کے لیے پانی نہیں بلکہ شراب ہے۔ ان خیالات کا اظہار آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین دہلی یونٹ کے صدر کلیم حفیظ نے کیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ دہلی کے عوام ہریانہ سرکار کے رحم و کرم پر ہیں۔ اگر اس نے پانی نہیں چھوڑا تو دہلی پیاسی مرجائے گی۔ حکومت کے پاس کوئی متبادل انتظام نہیں ہے۔ اپنے چہرے کے اشتہار پر خرچ کی جانے والی رقم اگر زیر زمین پانی کو نکالنے پر خرچ کردی جائے تو دہلی والوں کو پانی مل سکتا ہے۔کلیم الحفیظ نے کہا کہ کوئی بھی حکومت کسی پڑوسی حکومت پر الزام ڈال کر اپنی ذمہ داری اور جواب دہی سے نہیں بھاگ نہیں سکتی، جو حکومت اپنی عوام کو پینے کا پانی نہیں دے سکتی وہ کیا دے سکتی ہے۔ کیجریوال سرکار کا دہلی ماڈل ایک پرپیگنڈے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ صدر مجلس نے کہا کہ دہلی میں شراب فراہم کرنے میں سرکار نے جو دل چسپی دکھائی ہے، پانی فراہم کرنے میں بھی دکھانی چاہئے ۔انھوں نے سوال کیا کہ کیا لوگ پانی کی جگہ شراب سے پیاس بجھائیں گے؟ کاش شراب کے ٹھیکوں کی جگہ پیاؤ کھولے جاتے۔ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ ہریانہ کی حکومت جب چاہے دہلی والوں کوپیاسا مار سکتی ہے۔ ایک طرف گرمی کی شدت ہے دوسری طرف پانی نہیں ہے ایسے میں لوگ کس طرح زندہ رہیں گے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ پانی کا مستقل انتظام کرے، ان علاقوں میں پانی کے ٹینکر فراہم کرے جہاں کے لوگ پریشان ہیں۔ کسی ایک ریاست کا دوسری ریاست پر منحصر ہونا ٹھیک نہیں ہے۔کلیم الحفیظ نے کہا کہ ہریانہ میں بی جے پی کی حکومت ہے۔ بی جے پی حکومت کو کسی کے مرنے جینے سے کوئی مطلب نہیں ہے، انہیں تو مسجد ۔ مندر کے نام پر لوگوں کو الجھا کر رکھنا ہے۔