حکومت کے پرائمری اسکولس میں طلبہ اہم مضامین میں مہارت سے قاصر

   

میاتھس، انگلش، تلگو اور اُردو جیسے مضامین میں کمزور، فاؤنڈیشنل لٹریسی اینڈ نیومیریسی کی حکومت کو سروے رپورٹ
حیدرآباد 29 جنوری (سیاست نیوز) تلنگانہ کے پرائمری اسکولس میں طلبہ کے معیار پر سروے میں چونکا دینے والے انکشافات منظر عام پر آئے ہیں۔ فاؤنڈیشنل لٹریسی اینڈ نیومیریسی (FLN) نے گزشتہ سال نومبر اور ڈسمبر کے دوران ریاست کے مختلف علاقوں میں پرائمری اسکولس کا سروے کرتے ہوئے طلبہ کے معیار کا جائزہ لیا۔ رپورٹ کے مطابق تلنگانہ کے 82 فیصد پرائمری اسکولوں کے طلبہ اہم مضامین میں صلاحیت سے محروم ہیں۔ سروے میں بتایا گیا ہے کہ میاتھمیٹکس اور انگلش میں 82 فیصد طلبہ کمزور ہیں جبکہ 79 فیصد طلبہ تلگو، اُردو اور دیگر زبانوں پر عبور حاصل کرنے کے لئے جدوجہد کررہے ہیں۔ تعلیمی سال 2025-26ء کے دوران پرائمری سطح پر معیار تعلیم کا جائزہ لینے کے لئے سروے کیا گیا۔ اسٹیٹ کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ تلنگانہ نے یہ رپورٹ جاری کی۔ پہلی تا پانچویں جماعت کے طلبہ کی تعلیمی قابلیت کا جائزہ لینے کے لئے منعقدہ اِس سروے میں طلبہ کی پڑھنے اور لکھنے کی صلاحیتوں کے علاوہ میاتھمیٹکس کے بنیادی اُصولوں کے بارے میں سوالات کئے گئے۔ تلگو، انگلش اور اُردو زبان میں ٹسٹ منعقد کئے گئے تاکہ اسکول میں تعلیمی معیار کا پتہ چلایا جاسکے۔ پہلی تا پانچویں جماعت طلبہ کے مختلف زمرہ جات کے تحت سروے رپورٹ پیش کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق چوتھی جماعت میں تقریباً 80 فیصد طلبہ امتحانات میں بہتر نشانات حاصل کرنے میں ناکام رہے جبکہ 64 فیصد طلبہ میاتھس کے بنیادی اُصولوں، جمع اور تفریق سے بھی واقف نہیں ہیں۔ 75 فیصد طلبہ انگریزی میں کمزور ہیں۔ تیسری جماعت میں تقریباً 88 فیصد طلبہ میاتھس کے معمولی جمع، تفریق اور تقسیم جیسے اُصولوں سے ناواقف ہیں۔ 66.1 فیصد طلبہ میاتھس کے جمع کرنے اور 48.5 فیصد طلبہ تفریق سے واقف ضرور ہیں لیکن اِس میں مہارت کی کمی ہے۔ پانچویں جماعت میں 70 فیصد سے زائد طلبہ انگریزی لکھنے کی صلاحیت سے محروم ہیں اور وہ معمولی نوعیت کے میاتھس کے مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ میاتھمیٹکس اور انگلش جیسے اہم مضامین میں پانچویں جماعت کے طلبہ کے کمزور مظاہرہ کو سروے میں پیش کیا گیا۔ تلگو اور اُردو لکھنے اور پڑھنے کے معاملہ میں 65 فیصد طلبہ کی قابلیت انتہائی کمزور رہی۔ انگریزی کے روز مرّہ پر مشتمل الفاظ کی ادائیگی سے بھی پرائمری طلبہ قاصر ہیں۔ رپورٹ کی بنیاد پر اسٹیٹ کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ نے ایجوکیشن کمیشن کو سفارشات پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ پرائمری سطح پر معیار تعلیم کو بلند کرنے پر توجہ دی جاسکے۔1