حکومت ۔کسان بات چیت کی صورتحال جوں کی توں: سپریم کورٹ

,

   

کسانوں کو احتجاج کرنے کا حق لیکن بات چیت کا متبادل بھی اہم
سپریم کورٹ بات چیت کی حوصلہ افزائی کرے گا : جسٹس بوبڈے ، 8جنوری کو اگلی بات چیت

نئی دہلی : حکومت اور کسانوں کے درمیان زرعی قوانین کو لیکر جو تعطل برقرار ہے، اُسے دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ کسان احتجاج میں مزید شدت پیدا ہونے والی ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سپریم کورٹ نے بھی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور کسانوں کے درمیان بات چیت کے سات مراحل مکمل ہونے کے بعد بھی صورتحال جوں کی توں برقرار ہے ۔ زرعی قوانین کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس ایس اے بوبڈے نے کہاکہ سپریم کورٹ اس بات کا خواہاں ہے کہ بات چیت کی حوصلہ افزائی کی جائے لیکن موجودہ صورتحال پر اگر نظر ڈالی جائے تو اس میں کوئی بہتری نظر نہیں آتی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ صورتحال کا انہیں بھی بخوبی اندازہ ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ حکومت اور احتجاجی کسانوں کے درمیان بات چیت کی حوصلہ افزائی کی جائے ۔ کسانوں اور حکومت کے درمیان بات چیت کا ساتواں مرحلہ ختم ہونے کے بعد اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے عدالت سے کہا کہ ہم کسانوں سے تبادلہ خیال کررہے ہیں اور توقع ہے کہ فریقین میں کچھ معاملات پر مفاہمت ہوجائے گی ۔ دوسری طرف سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ فی الحال بات چیت پُرامن طریقہ سے جاری ہے ۔ پیر کے روز کسان مزدور سنگھرش کمیٹی کے سرون سنگھ پنڈھر جنہوں نے بات چیت میں وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر کے ساتھ شرکت کی تھی ، میڈیا نمائندوں کو بتایا کہ وزیر زراعت نے کسانوں سے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ حکومت زرعی قوانین میں کوئی ترمیم نہیں کرنے والی ہے لہذا قوانین کو منسوخ کئے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ انہوں نے یہ تک کہہ دیا کہ کسان اگر چاہیں تو سپریم کورٹ سے رجوع ہوسکتے ہیں ۔ یاد رہے کہ دہلی کی سرحدوں کے قریب ماہ نومبر سے کسان سراپا احتجاج ہیں اور اُن کا سب سے اہم مطالبہ یہ ہے کہ کسان مخالف زرعی قوانین کو واپس لیا جائے ۔ ان کو اندیشہ ہے کہ اگر زرعی قوانین پر عمل آوری کی گئی تو کسان برادری پوری طرح سے کارپوریٹ گھرانوں کے رحم و کرم پر ہوجائے گی ۔ گذشتہ ہفتہ حکومت نے کہا تھا کہ فریقین کے درمیان کسانوں کے چار مطالبات کے منجملہ دو مطالبات پر مفاہمت ہوئی تھی جن میں برقی ترمیمی بل سے دستبرداری اور ہوا کے معیار کا کمیشن آرڈیننس بھی شامل ہے جس میں پیانل فراہمی کی بات کہی گئی ہے ۔ گذشتہ ماہ بھی سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ کسانو ںکو احتجاج جاری رکھنے کا پورا حق ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ بات چیت کے متبادل کو بھی ملحوظ رکھنا چاہیئے جبکہ کسانوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ زرعی قوانین کی منسوخی کے سوائے کسی اور متبادل پر راضی نہیں ہوں گے اور اگر ضرورت پڑی تو یوم جمہوریہ کے موقع پر کسان پریڈ کا بھی انعقاد کیا جائے گا ۔ بات چیت کا اگلا مرحلہ 8جنوری کو مقرر ہے ۔