ظہیرآباد میں جماعت اسلامی کا اجتماع، ماہر تعلیم محمد فاروق طاہر اور دیگر کا خطاب
ظہیرآباد۔ جماعت اسلامی ہند ظہیرآباد کے زیر اہتمام ایک خطاب عام بعنوان اسلام میں حقوق انسانی کی اہمیت کل اسلامک سنٹر میں منعقد ہوا جس میں بطور مہمان خصوصی محمد فاروق طاہر ماہر تعلیم وممبر اسٹیٹ ایڈوائزر ی کونسل تلنگانہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کا تصور سب سے پہلے اسلام نے ہی دیا تھا جس کی عملی شکل حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زندگیوں میں ملتی ہے۔ معاشرے میں انسانی حقوق کے احترام اور تحفظ کا جو عملی نمونہ جناب رسول اللہؐ اور حضراتِ خلفائے راشدین نے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے، دنیا کا کوئی اور نظام اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ اسلام میں حقوق کا بنیادی تصوریہ ہے کہ ہر حقدار کو اس کا حق اداکر دو۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم جب مبعوث ہوئے تو سر زمین عرب میں دو انتہائیں تھیں۔ ایک رہبانیت ، کہ اللہ کی رضا کے لیے دنیا کے تمام معاملات چھوڑ دیے جائیں اور دوسری خدا فراموشی تھی۔ اسلام نے حقوق اللہ اور حقوق العباد میں توازن قائم کیا ہے۔ اسلام نے رنگ ونسل برادری،زبان اور علاقہ کی بنیادی پر کوئی امتیازی سلوک نہیں کیاسب کو یکساں بتایا سوائے ان کہ جو اللہ سے ڈرتے ہیں وہی قابل عزت ہیں۔ رسول اللہؐ نے اس میں ایک تقسیم فرمائی ہے، حضورؐ نے لوگوں کو حقوق میں یکساں قرار دیا ہے لیکن تکریم میں برابر قرار نہیں دیا۔ ’’الّا بالتقوٰی‘‘ میں حضورؐ نے یہی بات فرمائی ہے کہ رنگ و نسل اور ذات پات کے اعتبار سے سب انسانوں کے حقوق برابر ہیں لیکن عزت و تکریم میں سارے یکساں نہیں ہیں اس لیے کہ عزت و تکریم کا مدار کردار، اعمال اور تقویٰ پر ہے۔ رسول اللہؐ نے ایسی گفتگو کو گناہِ عظیم بتایا ہے جس سے کسی کی بے عزتی کا پہلو سامنے آتا ہو۔ جو شخص کسی پر بدکاری کی تہمت لگائے وہ سزا کا مستحق ہے کہ اس نے کسی دوسرے کی عزت پر ہاتھ ڈالا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانیت کو اپنا حق طلب کرنے کا اپنے اسوہ سے عملی شعور عطا کیا۔ آپ نے دنیا کو بتایا کہ اپنے حق کا مطالبہ کرنا بھی انسان کا حق ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صلہ رحمی کی تلقین بھی کی اور اپنی حیات مبارکہ میں بے شمار مقامات پر عملی مثالوں کے ذریعے اس کی تعلیم بھی دی۔ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ حضورؐ کے طرزِ عمل کو دیکھا جائے تو خاندانی نظام کا ایک ایسا مربوط نمونہ سامنے آتا ہے کہ جس کی مثال دنیا کی کوئی دوسری شخصیت یا کوئی اور نظام پیش کرنے سے عاجز ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے عورتوں کو ان کے حقوق دلائے۔
