بلدی کنٹراکٹرس کا احتجاج، 200 کروڑ بقایہ جات کی اجرائی کا مطالبہ
حیدرآباد: گریٹر حیدرآباد کے انتخابات کے بعد عوام میں مسائل کے حل اور علاقہ میں ترقیاتی کاموں کے آغاز کی منتظر ہے لیکن کنٹراکٹرس کے ساتھ جی ایچ ایم سی کے تنازعہ کے نتیجہ میں شہر میں ترقیاتی سرگرمیاں متاثر ہوسکتی ہیں۔ کنٹراکٹرس کی اسوسی ایشن نے دھمکی دی ہے کہ اگر بقایہ جات جاری نہیں کئے گئے تو وہ تر قیاتی کام روک دیں گے ۔ بتایا جاتا ہے کہ ستمبر تک کے بقایہ جات کے بلز کی اجرائی عمل میں آئی جبکہ کنٹراکٹرس 350 کروڑ کے مجموعی بقایہ جات میں سے 200 کروڑ کی اجرائی کی مانگ کر رہے ہیں ۔ اسوسی ایشن نے کمشنر جی ایچ ایم سی لوکیش کمار پر واضح کردیا ہے کہ ادائیگی نہیں تو کام نہیں کی بنیاد پر ان کا احتجاج جاری رہے گا۔ اسوسی ایشن کے مطابق 3000 سے زائد کنٹراکٹرس جی ایچ ایم سی کیلئے کام کر رہے ہیں۔ ان کے لئے ستمبر میں محض 45 کروڑ جاری کئے گئے جو ناکافی ہے۔ اسوسی ایشن نے کہا کہ جب تک 200 کروڑ جاری نہیں جاتے اس وقت تک ترقیاتی کام ٹھپ رہیں گے۔اسوسی ایشن کے ارکان نے جی ایچ ایم سی ہیڈکوارٹر پر دھرنا منظم کیا اور کمشنر کو یادداشت پیش کی ۔ کنٹراکٹرس نے جاریہ تمام سیول ورکس کو روک دیا ہے جن میں سڑکوں کی تعمیر ، اسٹارم واٹر ڈرین ، فٹ پاتھ انکرومنٹ ، نالوں کی صفائی اور دیگر کام شامل ہیں۔ اسوسی ایشن کا الزام اہے کہ حکومت صرف بڑے اداروں کو بقایہ جات جاری کر رہی ہے۔ جبکہ چھوٹے اور متوسط کنٹراکٹرس کے ساتھ ناانصافی کا رویہ برقرار ہے۔