حیدرآبادی شہر میں بڑھتی ٹریفک کے درمیان خاموش نہیں رہ سکتے

   


حیدرآباد ۔ یکم اکٹوبر (سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں ایسا معلوم ہوتا ہیکہ وہ دن چلے گئے جب کوئی یہ پیش قیاسی کرسکتا تھا کہ ایک خاص مقام اور وقت پر سڑک خالی رہے گی یا نہیں۔ آج شہر میں ٹریفک کے زیادہ یا کم ہجوم سے ’’مشہور بنگلورو ٹریفک‘‘ کی عکاسی ہوتی ہے۔ شام کے اوقات میں تو شہر کی سڑکوں پر بہت زیادہ ٹریفک ہجوم ہوتا ہے بہرحال دفتر سے نکل کر گھر جانے والے کسی طرح پہنچ جاتے ہیں۔ نیز جب کوئی وی وی آئی پی کا گذر ہوتا ہے تو سڑک پر ٹریفک کو روک دیا جاتا ہے اس سے ٹریفک کا اور بھی مسئلہ ہوتا ہے۔ شہر میں بڑھتی ٹریفک کے مسئلہ سے شہری پریشان ہیں اور ٹریفک کا مسئلہ ان کیلئے پریشان کن بن گیا ہے جس پر شہریوں نے سوشل میڈیا پر شیرنگ کرنا بھی شروع کردیا ہے۔ یاگناتیجا کام کیلئے روزانہ صنعت نگر سے خیریت آباد کا سفر کرتے ہیں۔ صبح میں جب ٹریفک رواں دواں رہتی ہے تو وہ آگے نکل کر ان کے دفتر پہنچ جاتے ہیں لیکن واپسی میں گھر پہنچنے کیلئے انہیں تقریباً ایک گھنٹہ ہوتا ہے جبکہ یہ فاصلہ صرف 8 کیلو میٹر کا ہے۔ اس کے علاوہ یہ ایک سیدھی روڈ ہے اس پر کوئی موڑ نہیں ہے۔ ’’گھر سے نکلتے وقت میں ہمیشہ گوگل میاپس چیک کرتا ہوں اور میرے لئے حیرت انگیز طور پر تقریباً ہر روز سب تیز تر روٹ سیدھی سڑک نہیں ہوتی ہے بلکہ اس کے بجائے براہ سوماجی گوڑہ، بیگم پیٹ، امیرپیٹ، ایس آر نگر اور پھر صنعت نگر کی سڑک ہوتی ہے۔ ہائی ٹیک سٹی میں آئی ٹی ہب میں کام کرنے والے ایک اور شخص نے کہا کہ شام کے اوقات میں کوئی کیاب یا آٹو بک کرنا بھی ایک مشکل کام ہوجاتا ہے۔ کیاب بک کروانے کیلئے 20 تا 25 منٹ درکار ہوتے ہیں یا اگر کوئی جلد بک کروائے تو ڈرائیورس طویل فاصلہ کے سفر کی صورت میں اسے منسوخ کردیتے ہیں۔