حیدرآبادی عوام باشعور ، بی جے پی کے فرقہ وارانہ ایجنڈہ کی کامیابی ممکن نہیں

,

   

نفرت سے ماحول بگاڑنے کی کوششوں پر ناراضگی،صرف ٹی آر ایس ہی بی جے پی کا مقابلہ کرسکتی ہے
حیدرآباد۔ بلدیہ عظیم تر حیدرآباد انتخابات کی مہم میں بی جے پی کے فرقہ وارانہ ایجنڈہ پر شہر کے عوام میں بے چینی کا اظہار کیا جارہاہے کیونکہ گذشتہ تقریباً 10 برسوں سے شہر میں پُرامن ماحول ہے لیکن بی جے پی بلدیہ میں کامیابی حاصل کرنے ووٹرس کو مذہب کی بنیاد پر منقسم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ دوباک ضمنی چناؤ میں بی جے پی کی کامیابی کے بعد حیدرآباد میں اسی تجربہ کو دوہرانے کا ارادہ رکھتی ہے لیکن سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ دوباک اور حیدرآباد کی سیاسی صورتحال میں کافی فرق ہے۔ جن حالات میں بی جے پی امیدوار رگھونندن راؤ نے دوباک میں کامیابی حاصل کی ایسا معاملہ حیدرآباد کیلئے نہیں ہے۔ حیدرآباد میں عوام فرقہ وارانہ ایجنڈہ کو پسند نہیں کرتے اور وہ امن کے ساتھ ترقی چاہتے ہیں۔ ایسے وقت جبکہ تلنگانہ کے قیام کے بعد سے گنگا جمنی تہذیب کے فروغ میں مدد ملی ہے بی جے پی ان روایات کو ختم کرنا چاہتی ہے جو کہ شہر اور اس کے عوام کے حق میں نہیں ہے۔ کورونا لاک ڈاؤن کے نتیجہ میں شہر کے لاکھوں افراد خاص طور پر غریب معاشی پریشان ہوگئے۔ کئی خانگی اداروں کے ملازمین کو ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑا جبکہ چھوٹے کاروبار کرنے والے آج تک بھی سنبھل نہیں پائے۔ حالیہ سیلاب نے شہر کے کئی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لیتے ہوئے تباہی کی ایک نئی داستان رقم کی ہے۔ ایسے وقت جبکہ عوام مسائل کا شکار ہیں انہیں ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے بجائے مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی کوشش کو ناکام بنانا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ بلدیہ کی انتخابی مہم کے دوران جہاں کہیں بھی بی جے پی قائدین نے فرقہ وارانہ ایجنڈہ کے ساتھ مہم چلائی عوام کی تائید حاصل نہیں ہوئی۔ بی جے پی اپنے سیاسی مقاصد کی تکمیل کیلئے نوجوان نسل کو استعمال کررہی ہے اور بی جے پی کے موجودہ صدر بی سنجے کے بیانات اور ان کے تیور عوام کو پرانے شہر کے سابق لیڈر نریندر کی یاد دلارہے ہیں۔ اے نریندر اور بدم بال ریڈی جیسے قائدین کے بعد شہر میں فرقہ وارانہ ایجنڈہ کو ہوا دینے والا کوئی نہیں رہا لیکن سنجے نے پارٹی صدارت کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد نریندر اور بدم بال ریڈی کی کمی پورا کرنے کی کوشش کی ہے لیکن شہر کے عوام چاہے وہ ہندو ہو یا مسلم باشعور ہوچکے ہیں اور وہ فرقہ وارانہ اساس پر سیاست کرنے والوں کی حوصلہ افزائی نہیں کریں گے۔ گذشتہ بلدی انتخابات میں بی جے پی کا مظاہرہ مایوس کن رہا تھا لیکن دوباک کے بعد وہ ایک نئے حوصلہ کے ساتھ گریٹر حیدرآباد میں اپنی طاقت میں اضافہ کی کوشش کررہی ہے ۔ پارٹی نے مرکزی قائدین کو شہر کی انتخابی مہم میں جھونک دیا ہے۔ دیگر پارٹیوں کے مایوس عناصر کو بی جے پی میں شامل کرکے مشن 2023 کی تیاری ہے تاکہ اسمبلی انتخابات میں طاقت کے طور پر اُبھر سکیں۔ بی جے پی صدر نے جمعہ کو اچانک چارمینار پہنچ کر اپنے عزائم کا پہلے ہی اظہار کردیا ہے اگر انہیں کسی مندر میں حلف لینا ہی تھا تو وہ نئے شہر کی کسی مندر کا تعین کرسکتے تھے لیکن جمعہ کے باوجود دوپہر کے وقت میں مندر پہنچ کر چارمینار پر بھگوا پرچم لہرانے کی کوشش ان کے فرقہ وارانہ ایجنڈہ کی مثال ہے۔ ٹی آر ایس نے شہر کو فرقہ واریت سے بچانے عوام میں شعور بیداری مہم کے ذریعہ بی جے پی کو بے نقاب کرنا شروع کردیا ہے۔ تشکیل تلنگانہ کے بعد سے ٹی آر ایس نے حیدرآباد کو کرفیو سے پاک کرتے ہوئے ترقی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ میں اہم رول ادا کیا ۔ ایسے وقت جبکہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ قومی سطح پر بی جے پی کے خلاف محاذ کی تیاری کا فیصلہ کرچکے ہیں بی جے پی حیدرآباد میں ماحول بگاڑتے ہوئے ان کوششوں پر روک لگانا چاہتی ہے۔ بلدی انتخابات میں صرف ٹی آر ایس واحد پارٹی ہے جو فرقہ پرست طاقتوں کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے اور کارگذار صدر کے ٹی راما راؤ نے انتخابی مہم کے دوران عوام میں بی جے پی کا حقیقی چہرہ بے نقاب کرنے کا کام شروع کردیا ہے۔