حیدرآباد ، ممبئی و کولکتہ میں سپریم کورٹ کی علاقائی بنچ ضروری

   

دستور کی دفعہ 130 میں ترمیم کی جائے، کانفرنس سے بی ونود کمار کا خطاب
حیدرآباد۔/21 نومبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ اسٹیٹ پلاننگ بورڈ کے نائب صدر نشین بی ونود کمار نے دستور کی دفعہ 130 میں پارلیمنٹ کے ذریعہ ترمیم کا مطالبہ کیا تاکہ صدر جمہوریہ کو ممبئی، کولکتہ اور حیدرآباد میں سپریم کورٹ کی علاقائی بنچ کے قیام کے اختیارات حاصل ہوں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو بہتر انصاف رسانی کیلئے سپریم کورٹ کی علاقائی بنچ تینوں ریاستوں میں قائم کرنے کا طویل عرصہ سے مطالبہ کیا جارہا ہے۔ دفعہ 130 میں ترمیم کے ذریعہ اس سلسلہ میں صدر جمہوریہ کو اختیارات دیئے جاسکتے ہیں۔ ونود کمار ہندوستان میں عدلیہ کو غیر مرکوز کرنے کے موضوع پر ساؤتھ انڈیا کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کیلئے سپریم کورٹ سے انصاف حاصل کرنا دشوار کن مرحلہ ہے لہذا عوام کی سہولت کیلئے سپریم کورٹ کے بنچس اہم شہروں میں قائم کئے جائیں۔ انہوں نے بتایا کہ دستور کی دفعہ 130 کے تحت چیف جسٹس آف انڈیا کو سپریم کورٹ کی بنچس کے قیام کے سلسلہ میں صدر جمہوریہ سے مشاورت کے بعد فیصلہ کا اختیار حاصل ہے۔ ونود کمار نے رکن پارلیمنٹ کی حیثیت سے لوک سبھا میں خانگی بل پیش کیا تھا جس میں دفعہ 130 میں ترمیم کی سفارش کی گئی تھی تاکہ اختیارات صدر جمہوریہ کو تفویض کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے علاقائی بنچس کے قیام کے خلاف فیصلہ کیا ہے لہذا عوام کے مفاد میں یہ فیصلہ صدر جمہوریہ پر چھوڑ دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دستوری ترمیم کے ذریعہ صدر جمہوریہ کو مکمل اختیارات دیئے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر جمہوریہ عوام کی خواہشات اور توقعات کے مطابق فیصلہ کریں گے۔ ونود کمار نے کہا کہ سپریم کورٹ میں پسماندہ اور کمزور طبقات سے تعلق رکھنے والے ججس کی کمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس ٹی طبقہ کا ایک بھی شخص ابھی تک سپریم کورٹ کا جج مقرر نہیں ہوا۔ آندھرا پردیش اور تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے ایس سی یا ایس ٹی طبقہ کے کسی بھی شخص کو سپریم کورٹ کا جج مقرر نہیں کیا گیا۔ ونود کمار نے کہا کہ عدالتوں میں 3 کروڑ سے زائد کیسس زیر التواء ہیں جن میں مختلف ہائی کورٹس میں 44 لاکھ اور سپریم کورٹ میں 59 ہزار کیسس ہیں جبکہ باقی تحت کی ٹرائیل کورٹس میں زیر التواء ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو بروقت انصاف فراہم کرنے کیلئے ملک میں علاقائی بنچس کے قیام پر توجہ دی جانی چاہیئے۔ر