پہلے مرحلہ میں حیدرآباد پر توجہ ، بی جے پی الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے حق میں
حیدرآباد: تلنگانہ میں سیاسی جماعتوں نے بلدی انتخابات کی تیاریوں کا آغاز کردیا ہے۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے علاوہ کھمم اور ورنگل کارپوریشنوں کے انتخابات کی تیاریوں کے سلسلہ میں اسٹیٹ الیکشن کمیشن نے مشنری کو متحرک کردیا ہے ۔ سیاسی جماعتوںکو توقع ہے کہ تینوں اضلاع میں بیک وقت انتخابات منعقد ہوں گے لیکن الیکشن کمیشن کے ذرائع نے بتایا کہ کھمم اور ورنگل کے انتخابات کے بارے میں علحدہ فیصلہ کیا جائے گا۔ پہلے مرحلہ میں گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے چناؤ پر توجہ مرکوز کی جارہی ہے ۔ اسٹیٹ الیکشن کمیشن نے گریٹر حیدرآباد کی اہمیت کے پیش نظر 150 بلدی حلقوں کے انتخابات پہلے مرحلہ میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ میونسپل کارپوریشن کے عہدیداروں کو مختلف ذمہ داریاں الاٹ کی گئی ہیں۔ جی ایچ ایم سی کی میعاد 10 فروری کو ختم ہورہی ہے جبکہ کھمم اور ورنگل بلدیات کی میعاد 14 مارچ کو ختم ہوگی۔ لہذا کمیشن نے گریٹر حیدرآباد کے بعد کھمم اور ورنگل کے انتخابات کا فیصلہ کیا ہے۔ اسٹیٹ الیکشن کمشنر سی پارتھا سارتھی نے کہا کہ اگرچہ کمیشن نے قطعی فیصلہ نہیں کیا ہے، تاہم وہ گریٹر حیدرآباد کے انتخابات کو پہلے مرحلہ میں منعقد کرنے پر غور کر رہی ہے۔ گریٹر حیدرآباد میں 150 بلدی ڈیویژن کے تحت تقریباً 75 لاکھ رائے دہندے ہیں۔ 2016 ء کے انتخابات میں ٹی آر ایس کو 99 ڈیویژنس پر کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ کھمم کے 50 ڈیویژنس میں ٹی آر ایس کو 34 اور کانگریس کو 10 نشستوں پر کامیابی ملی تھی۔ ورنگل کی 58 نشستوں میں ٹی آر ایس نے 44 اور کانگریس کو 4 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی ۔ برسر اقتدار پارٹی نے تینوں بلدیات میں ترقیاتی سرگرمیوں کو تیز کرتے ہوئے انتخابی مہم کا عملاً آغاز کردیا ہے ۔ حیدرآباد میں پارٹی کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راؤ نے انتخابی کمان سنبھال لی ہے جبکہ ورنگل میں ریاستی وزیر پنچایت راج ای دیاکر راؤ اور کھمم میں وزیر ٹرانسپورٹ پی اجئے کمار کو ذمہ داری دی گئی۔ اسی دوران الیکشن کمیشن نے رائے دہی کے طریقہ کار سلسلہ میں سیاسی جماعتوں سے رائے طلب کی ہے۔ بیالٹ پیپرس یا الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے بارے میں 30 ستمبر تک سیاسی جماعتوں کو اپنی رائے سے کرانا ہے۔ بی جے پی نے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی تائید کی ہے جبکہ کانگریس کے فلور لیڈر بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ ای وی ایم مشینوں اور بیالٹ پیپرس دونوں سے کورونا کا خطرہ برقرار رہے گا۔