حیدرآباد احتجاج میں بچوں کا استعمال

   

این سی پی سی آر کی جانب سے کارروائی کا حکم
نئی دہلی: نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چلڈرن ( این سی پی سی آر ) نے حیدرآباد پولیس سے کہا ہے کہ وہ ان لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرے جنہوں نے بی جے پی کے معطل لیڈر راجہ سنگھ کے خلاف احتجاج میں بچوں کا استعمال کیا اور ان سے نعرے لگوائے۔ واضح ہو کہ پیغمبر اسلام کے بارے میں راجہ سنگھ کے مبینہ ریمارکس کے خلاف حیدرآباد میں احتجاج ہوا ہے۔ اسکول کے بچوں نے بھی اس میں نعرے لگائے۔ حیدرآباد پولیس کو لکھے ایک خط میں این سی پی سی آر نے کہا کہ سوشیل میڈیا پر گردش کرنے والے ویڈیو کلپس میں بچے قابل اعتراض نعرے لگاتے ہوئے اور بی جے پی کے معطل رہنما کو پھانسی دینے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ کمیشن نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ بچوں کو متاثر کیا گیا اور انہیں احتجاج میں سیاسی آلہ کار کے طورپر استعمال کیا گیا۔ این سی پی سی آر نے کہاکہ کمیشن اسے غیر منصفانہ سمجھتا ہے اور اس کا از خود نوٹس لیتا ہے کیونکہ بنیادی طور پر جووینائل جسٹس ( بچوں کی دیکھ بھال اور تحفظ ) ایکٹ 2015 کی متعلقہ دفعات کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن آپ پر زور دیتا ہے کہ ملزم کے خلاف فوری ایف آئی آر درج کریں اور معاملے کی تحقیقات کریں۔اس کے علاوہ ویڈیو میں نظر آنے والے بچوں کی شناخت کرکے چائیلڈ ویلفیر کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ ان کا بیان ریکارڈ کیا جاسکے اور جووینائل جسٹس ( بچوں کی دیکھ بھال اور تحفظ ) ایکٹ 2015 کے تحت ان کی کونسلنگ کی جاسکے۔ این سی پی سی آر نے کہا کہ ایف آئی آر کی کاپی بچوں اور ان کے والدین کے بیانات اور متعلقہ ریکارڈ کے ساتھ کارروائی کی رپورٹ سات دنوں کے اندر کمیشن کو پیش کی جائے۔