داغ دہلوی فاونڈیشن کے کل ہند مشاعرہ سے پروفیسر عین الحسن و دیگر کا خطاب
حیدرآباد ۔ 15 ۔ مارچ : ( دکن نیوز ) : کل ہند داغ دہلوی فاونڈیشن کے زیر اہتمام تیسرا کل ہند مشاعرہ 14 مارچ رویندرا بھارتی تھیٹر میں منعقد ہوا ۔ جس میں سامعین کی کثیر تعداد نے شرکت کرتے ہوئے اردو زبان سے اپنی وابستگی کا بھر پور ثبوت دیا ۔ جن میں غیر مسلم مرد و خواتین ، نوجوان بھی شامل تھے ۔ اس مشاعرہ کی صدارت جناب سید عین الحسن وائس چانسلر مولانا آزاد یونیورسٹی نے کی اور ان ہی کے ہاتھوں ’ اردو شمع ‘ روشن کرتے ہوئے مشاعرہ کا آغاز کیا گیا ۔ جب کہ سید مسکین احمد صدر فاونڈیشن نے نگرانی کی ۔ وزیر داخلہ جناب محمد محمود علی اسمبلی سیشن کے ختم ہونے کے بعد تاخیر سے مشاعرہ گاہ پہنچے ۔ پروفیسر عین الحسن نے کہا کہ حیدرآباد اردو زبان کا مرکز ہمیشہ سے رہا ہے اس لیے ان سے محبت اور وابستگی ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کا شاعری کے میدان میں آگے آنا بڑا اچھا شگون ہے ۔ سابق وزیر و رکن پارلیمان اور رکن قانون ساز کونسل جناب ایل وی رمنا نے بزبان تلگو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں کوشش میں ہوں کہ اردو زبان پر عبور حاصل کروں ۔ جناب سید مسکین احمد صدر فاونڈیشن نے فاونڈیشن کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی ۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ شہر حیدرآباد میں داغ کے نام پر آڈیٹوریم اور ریسرچ سنٹر کی تعمیر کا اعلان کرے ۔ مہمانان اعزازی کی حیثیت سے محمد قمر الدین ، پروفیسر ایس اے شکور ، خسرو نواب ، مدھو ایم ایل سی ، گوپال ریڈی ، عامر جاوید ، جناب ظفر جاوید اور دوسرے شریک تھے ۔ اس کل ہند مشاعرہ میں جناب منظر بھوپالی ، حامد بھناولی ، الطاف ضیا ، وارث وارثی ، سویتا اسیم ، یوسف دیوان ، کے علاوہ میزبان شعرا میں سردار سلیم ، انجی کمار گوئل ، وحید پاشاہ قادری ، کوکب ذکی اور دوسروں نے کلام سنایا ۔ بالخصوص جناب منظر بھوپالی اور حامد بھناولی ، یوسف دیوان کے کلام کو پسند کیا گیا جنہوں نے حالات حاضرہ پر شدید طنز کیا ۔ منظر بھوپالی نے اپنے اشعار سنانے کے دوران نئی نسل پر زور دیا کہ وہ تعلیم کے حصول کو اپنا مقصد بنائیں ۔ بعدازاں تمام مہمانان خصوصی ، شعرا کرام کی فاونڈیشن کی جانب سے گلپوشی کی گئی ۔ جناب اختر خان اورنگ آباد سے اس مشاعرہ میں شرکت کے لیے آئے تھے ان کی بھی گلپوشی کی گئی ۔ اس موقع پر ولی محمد قادری ، شیخ نعیم ، محمد افتخار الدین ، محمد سجاد حسین ، کوکب ذکی اور دوسروں نے مشاعرہ کی کامیابی میں حصہ لیا ۔ جناب یوسف دیوان نے نظامت کی ۔ شیخ نعیم نے شکریہ ادا کیا ۔۔