انتخابات کے اعلان کے بعد بازار میں سست روی ، تین ماہ تک متاثر رہنے کا امکان
حیدرآباد۔19۔اکٹوبر(سیاست نیوز) تلنگانہ میں انتخابات کے اعلان کے ساتھ ہی شہر حیدرآباد اور اضلاع میں رئیل اسٹیٹ کاروبار کی سرگرمیاں بڑی حد تک مفلوج ہوچکی ہیں اور تاجرین کا کہناہے کہ انتخابات کے نتیجہ میں بازار سست رفتار ہوچکا ہے۔ رئیل اسٹیٹ تجارت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیتے ہوئے سہ ماہی رپورٹ جاری کرنے والے ادارہ نائٹ فرینک انڈیا کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماہ ستمبر کے دوران شہر حیدرآباد میں رہائشی جائیدادوں کے رجسٹریشن میں 30 فیصد تک کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا اور پیش قیاسی کی گئی تھی کہ آئندہ چند ماہ کے دوران رہائشی جائیدادوں کی خرید و فروخت میں اضافہ ریکارڈ کیا جائے گا لیکن ریاست میں انتخابات کے اعلان کے بعد سے تبدیل ہونے والے حالات کو دیکھتے ہوئے تاجرین کا کہناہے کہ آئندہ تین ماہ کے دوران رئیل اسٹیٹ تجارت محدود رہنے کا خدشہ ہے اور ضرورت مند ہی ان جائیدادوں کی خرید و فروخت میں حصہ لیں گے اور سرمایہ کاری کی غرض سے کئی جائیدادوں کی خریدی کے رجحان میں کمی رونما ہوگی جو کہ تجارت کو متاثر کرنے کا سبب بن رہی ہے۔ دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد کے علاوہ شہر کے نواحی علاقوں میں جائیدادوں کی خرید و فروخت کی معاملتوں میں کمی کے متعلق کہا جا رہاہے کہ انتخابات کے اعلان سے نتائج کے اعلان تک عام طور پر رئیل اسٹیٹ تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں اور ان سرگرمیوں میں انتخابی عمل کے دوران کمی معمول کی بات ہے۔سرکردہ رئیل اسٹیٹ تاجرین کا کہناہے کہ تلنگانہ ریاستی اسمبلی کے انتخابات کی تکمیل کے بعد رئیل اسٹیٹ تجارتی سرگرمیاں بحال ہوجائیں گی لیکن بعض چھوٹے تاجرین کا کہناہے کہ تلنگانہ میں اسمبلی انتخابات کے اختتام کے بعد اندرون چند ماہ پارلیمانی انتخابات کی مہم شروع ہوگی اور یہ سلسلہ آئندہ سال کے پہلے سہ ماہی تک جاری رہے گا جس کے نتیجہ میں ماہ اپریل یا مئی 2024 تک رئیل اسٹیٹ سرگرمیوں کے متاثر رہنے کے خدشات ظاہر کئے جا رہے ہیں اور کہا جار ہاہے کہ رئیل اسٹیٹ تجارت میں اچھال یا اس کے معمول پر آنے کے لئے وقت لگ سکتا ہے کیونکہ انتخابی عمل کے اعلان کے ساتھ ہی شہری علاقوں میں تعمیراتی سرگرمیاں محدود ہونے لگتی ہیں جس کا اثر رئیل اسٹیٹ تجارت پر ہونے لگتا ہے اور رہائشی عمارتوں کی تعمیر میں پیدا ہونے والے خلل کے سبب پراجکٹ کی تکمیل میں تاخیر ہونے لگتی ہے۔ بلڈرس کا کہناہے کہ انتخابات کے اعلان کے ساتھ ہی مزدور طبقہ محنت کے بجائے انتخابی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہوئے مزدوری سے زیادہ آمدنی حاصل کرنے لگتا ہے اسی لئے وہ تعمیری کاموں میں دلچسپی لینے سے گریز کرنے لگتا ہے جو کہ کاروبار پر اثر کی بنیادی وجہ ہے۔