کمپنیوں اور ایجنٹس کی ملی بھگت، دوہری رجسٹری سے سرمایہ دار پریشان حال
حیدرآباد۔4۔اپریل (سیاست نیوز) تلنگانہ بالخصوص شہر حیدرآبادوسکندرآباد کے علاوہ نواحی علاقوں میں فلیٹس کی فروخت کے معاملہ میں جاری دھاندلیوں پر قابو پانے کے لئے فوری طور پر اقدامات ناگزیر ہیں کیونکہ زیر تعمیر عمارتوں میں فلیٹس کی فروخت سے متعلق اسکامس کی تفصیلات اب سامنے آنے لگی ہیں اور کمپنیوں کے ذریعہ رئیل اسٹیٹ ایجنٹس جو فلیٹس کی فروخت کرتے ہیں ان کی دوہری فروخت کے معاملات سامنے آرہے ہیں اسی لئے کسی بھی زیر تعمیر عمارت میں فلیٹ کی خریداری سے قبل جامع تحقیق اور اطمینان حاصل کرنے کے اقدامات کرنے ضروری ہیں کیونکہ شہر کے نواحی علاقوں میں جائیداد کی خریدی کے رجحان میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے دھوکہ بازوں کی جانب سے سرکردہ کمپنیوں کی جانب سے کی جانے والی تعمیرات میں موجود فلیٹس کو ایک سے زائد افراد کو دکھانے اور فروخت کیا جانے لگا ہے جو کہ غیر قانونی ہے۔ ذرائع کے مطابق منی کنڈہ ‘ رچہ کنڈہ ‘ گھٹکیسر‘ بھونگیر ‘ نظام پیٹ‘ کوکٹ پلی ‘ کے علاوہ دیگر علاقوں میں فلیٹس کی فروخت کے لئے ایجنٹس نے سرکردہ کمپنیوں سے معاملت کے بعد گاہکوں کو تلاش کرتے ہوئے انہیں فلیٹس فروخت کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے اور کمپنی اور ایجنٹ کے درمیان رابطہ کا استعمال کرتے ہوئے سرمایہ کاری کرنے والوں کو دھوکہ دیا جانے لگا ہے ۔ سرمایہ کار جو اپنی جائیداد کے طور پر فلیٹس خریدتے ہوئے اس میں قیام کے بجائے انہیں اثاثہ کے طور پر رکھتے ہوئے آمدنی حاصل کرتے ہیں وہ اس طرح کی دھوکہ دہی کا شکار ہونے لگے ہیں۔ بتایاجاتاہے کہ سرمایہ کار جو فلیٹ خریدتے ہوئے اس میں مقیم ہونے کے متمنی نہیں ہوتے ایجنٹ ان فلیٹس کو دوسرے گاہکوں کو بھی فروخت کرنے لگے ہیں اور سب رجسٹرار دفاتر میں بہ آسانی ان فلیٹس کی رجسٹری کا عمل مکمل ہونے لگا ہے۔بتایاجاتاہے کہ دوہری رجسٹری اور ایک سے زائد افراد کو جائیدادوں کی فروخت کے معاملات دونوں شہروں سے بڑی حد تک ختم ہوگئے تھے لیکن گذشتہ چند ماہ سے دوہری رجسٹری اور ایک سے زائد افراد کو فلیٹس کی فروخت کی شکایات موصول ہونے لگی ہیں۔M3