حیدرآباد ایم ایل سی انتخاب کیلئے 22 سال بعدکل رائے دہی

   

بی آر ایس کی انتخاب سے دُوری ، کانگریس نے ہنوز کوئی فیصلہ نہیں کیا ،شہر میں مجلس کو ووٹ نہ دینے کے لگائے گئے بیانرس
حیدرآباد۔ 21 اپریل (سیاست نیوز) حیدرآباد کے مجالس مقامی کونسل انتخاب کیلئے تمام تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں۔ 22 سال کے بعد حیدرآباد میں مجالس مقامی کونسل انتخاب کیلئے رائے دہی ہونے والی ہے۔ اب تک یہ انتخاب بلامقابلہ ہوا کرتا تھا۔ اس مرتبہ انتخابی میدان میں مجلس اور بی جے پی کے امیدوار اپنی اپنی قسمت آزما رہے ہیں جبکہ بی آر ایس پارٹی نے انتخاب کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکمران کانگریس پارٹی نے اس سلسلے میں اب تک کوئی سرکاری طور پر اعلان نہیں کیا ہے۔ عددی طاقت نہ ہونے کے باوجود بی جے پی نے اچانک اپنے امیدوار کو انتخابی میدان میں اُتارا ہے جس کی وجہ سے رائے دہی لازمی ہوگئی ہے۔ چہارشنبہ 23 اپریل کو رائے دہی مقرر ہے۔ اس انتخاب کیلئے جملہ 112 رائے دہندے ہیں جس میں سب سے زیادہ مجلس کے 49 ووٹ ہیں۔ جیت اور ہار کی فکر کرے بغیر مقابلہ کرنے والی بی جے پی کے 25 ووٹ ہیں۔ جملہ 112 ووٹوں میں 81 کارپوریٹرس ہیں، 31 معاون ارکان (ارکان اسمبلی، ارکان پارلیمنٹ، ارکان کونسل، ارکان راجیہ سبھا) ہیں۔ معاون ارکان میں 9 ارکان پارلیمنٹ، 15 ارکان اسمبلی، 7 ارکان قانون ساز کونسل ہیں جن میں مجلس کے 9 اور بی آر ایس کے 9 ارکان شامل ہیں جبکہ کانگریس کے 7 اور بی جے پی کے 6 ہیں۔ اس انتخاب میں مجلس کی طرف سے ریاض الحسن آفندی اور بی جے پی کی طرف سے این گوتم راؤ انتخابی میدان میں ہیں۔ جملہ ووٹرس میں مجلس کے 40 کارپوریٹرس، 9 معاون ارکان ہیں۔ بی جے پی کے 19 کارپوریٹرس اور 6 معاون ارکان ہیں۔ بی آر ایس کے 15 کارپوریٹرس اور 9 معاون ارکان ہیں۔ کانگریس کے 7 کارپوریٹرس اور 7 معاون ارکان ہیں۔ بی جے پی کی جانب سے اس انتخاب کو بھی ہندو۔ مسلم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مرکزی وزراء، بی جے پی کے ارکان پارلیمنٹ، کارپوریٹرس کو اپنی ضمیر کی آواز پر ووٹ دینے کی اپیل کررہے ہیں، لیکن آج شہر کے مختلف علاقوں میں بیانرس لگائے گئے ہیں جس میں مجلس کو ووٹ نہ دینے کی اپیل کی گئی ہے۔ بیانرس کے نیچے ’’ہندوؤں کی اپیل‘‘ لکھا گیا ہے۔ بی آر ایس اور کانگریس کے کارپوریٹرس کو مشورہ دیا گیا ہے کہ کیا تمہارے نزدیک ہائی کمانڈ اہم ہے یا تمہیں ووٹ دے کر کامیاب کرنے والے ہندو اہم ہیں۔ نیند سے بیدار ہونے کی اپیل کی گئی ہے۔ اگر مستقبل میں تمہیں ہندوؤں کی تائید چاہئے تو مجلس کو ووٹ مت دو۔ آپ (ہندوؤں) کو مارنے کیلئے 15 منٹ کا وقت مانگا گیا ہے۔ یہ سوال کیا گیا کہ کیا ایسی پارٹی کو ووٹ دے سکتے؟۔ 2