بی آر ایس کی انتخابات سے دوری، 25 اپریل کو رائے شماری اور نتیجہ کا اعلان
حیدرآباد : 23 اپریل (سیاست نیوز) حیدرآباد مجالس مقامی حیدرآباد ایم ایل سی نشست کے انتخابات کی آج رائے دہی مکمل ہوگئی۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے ہیڈ آفس میں دو پولنگ مراکز قائم کئے گئے جس میں کارپوریٹرس اور بااعتبار عہدہ ارکان نے رائے دہی میں حصہ لیا۔ رائے دہی صبح 8 بجے شروع ہوئی اور سہ پہر 4 بجے تک جاری رہی۔ ایم ایل سی نشست کے لیے مجلس اور بی جے پی کے درمیان مقابلہ ہے۔ بی آر ایس نے رائے دہی سے دوری اختیار کرلی جبکہ کانگریس نے لمحہ آخر میں رائے دہی میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔ ایم ایل سی نشست کے لیے جملہ 112 رائے دہندوں میں 88 نے رائے دہی میں حصہ لیا۔ مجلس بلدیہ کے 81 کارپوریٹرس میں 66 نے رائے دہی میں حصہ لیا جبکہ بااعتبار عہدہ 31 ارکان میں 21 نے رائے دہی میں حصہ لیا۔ مجلس نے مرزا ریاض الحسن آفندی کو امیدوار بنایا ہے جبکہ بی جے پی نے گوتم رائو کو ٹکٹ دیا۔ کانگریس اور مجلس کے کارپوریٹرس کے علاوہ ارکان پارلیمنٹ ‘اسمبلی اور کونسل نے اپنے ووٹ کا استعمال کیا۔ بی جے پی کے عوامی نمائندوں اور کارپوریٹرس نے بھی رائے دہی میں حصہ لیا۔ بی آر ایس کے ووٹرس نے رائے دہی سے دوری اختیار کرلی۔ عددی طاقت کے اعتبار سے مجلسی امیدوار کی کامیابی یقینی دکھائی دے رہی ہے۔ کیوں کہ کانگریس نے بھی مجلس کے حق میں اپنے ووٹ کا استعمال کیا ہے۔ رائے دہی کی تکمیل کے بعد دونوں پارٹیوں نے کامیابی کا دعوی کیا ہے۔ ووٹوں کی گنتی 25 اپریل کو ہوگی اور نتیجہ کا اعلان کیا جائے گا۔ رائے شماری کے لیے ایک مائکرو ابزرور، ایک کائونٹنگ سوپر وائز کے علاوہ دو معاونین پر مشتمل ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ مجلس بلدیہ میں مجلس کے ارکان کی تعداد 50 ہے جبکہ بی آر ایس کے 24 اور کانگریس کے 14 ارکان ہیں۔ بی جے پی نے ایم ایل سی الیکشن کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی ہے۔ رائے دہی میں حصہ لینے والوں میں کانگریس کے ارکان قانون ساز کونسل عامر علی خان، بی وینکٹ، ایم ایس پربھاکر، رکن راجیہ سبھا انیل کمار یادو، رکن اسمبلی ڈی ناگیندر، مرکزی وزیر جی کشن ریڈی اور مجلس کے رکن پارلیمنٹ اسد اویسی، ارکان اسمبلی اکبر اویسی، میر ذوالفقار علی، احمد بلعلہ، محمد مبین، ماجد حسین، جعفر حسین معراج، کوثر محی الدین، رکن کونسل رحمت بیگ شامل ہیں۔1