حیدرآباد سیولس کامیابی کے لیے نئے مرکز میں تبدیل!

   

شمالی ہند کی ریاستوں کو ٹکر سال 2021-22 میں 46 امیدواروں نے رینکس حاصل کیا
2017 کے ٹاپر کا تلنگانہ سے تعلق ، معیاری کوچنگ سنٹرس اور شعور بیداری کا نتیجہ
حیدرآباد ۔ 29 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : تعلیمی اعتبار سے حالیہ چند برسوں میں شہر حیدرآباد نے ملک بھر میں منفرد مقام حاصل کرچکا ہے ۔ اب سیول سرویس کے امتحانات میں کامیابی حاصل کرنے والوں کے لیے نئے مرکز میں تبدیل ہوگیا ہے ۔ جس کی زندہ مثال 2021-22 کے نتائج ہے جس میں ریاست سے 46 امیدواروں نے رینکس حاصل کرتے ہوئے نئی تاریخ بنائی ہے ۔ سال 2017 کے امتحان میں ملک کے ٹاپر کا تعلق ریاست تلنگانہ سے رہا ہے ۔ سیول سرویس کے بارے میں پہلے لوگوں میں زیادہ شعور نہیں تھا والدین سرپرست اور خود طلبہ زیادہ تر ڈاکٹر ، انجینئر کی تعلیم پر زیادہ توجہ دیتے تھے اور تعلیم کی تکمیل کے بعد اعلیٰ تعلیم یا ملازمت کے لیے امریکہ ، کینڈا ، لندن یا آسٹریلیا کے علاوہ دوسرے ممالک کا رخ کیا کرتے تھے یا پھر ہندوستان میں آئی ٹی انڈسٹری کو زیادہ ترجیح دیا کرتے تھے تاہم جیسے جیسے سیول سرویس کے بارے میں شعور بیدار ہوا اس کی اہمیت و افادیت اور سماج میں تبدیلی لانے کے لیے کام کرنے کے بارے میں معلومات حاصل ہوئی تب سے زیادہ تر نوجوان آئی اے ایس ، آئی پی ایف ، آئی ایف ایس ، آئی آر ایس ، آئی آئی ایس ، آئی ڈی ای ایس اس طرح دیگر 24 آل انڈیا سیول سرویس میں خدمات انجام دینے کے لیے آگے آرہے ہیں ۔ پہلے حیدرآباد میں اچھے کوچنگ سنٹرس نہیں ہوا کرتے تھے زیادہ تر نوجوان دہلی میں قیام کرتے ہوئے سیول سرویس کی کوچنگ حاصل کیا کرتے تھے ۔ مگر تب کامیابی کا تناسب بہت ہی کم نہ کے برابر ہوا کرتا تھا ۔ ہمیشہ ٹاپ رینکرس میں اترپردیش ، بہار ، راجستھان کے طلبہ ہوا کرتے تھے ۔ اب اس فہرست میں ریاست تلنگانہ کا بھی شمار ہونے لگا ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گذشتہ چار سال میں کافی تبدیلیاں ہوئی ہیں ۔ 2017 میں سیول کے امتحان میں سارے ملک میں ٹاپ کرنے والے امیدوار ڈی انودیپ جس کا میٹ پلی متحدہ ضلع کریم نگر سے تعلق تھا وہ فی الوقت ضلع بھدرا دری کتہ گوڑم کا کلکٹر ہے نے کہا کہ ماضی میں آئی اے ایس ، آئی پی ایس آفیسر کیا ہے ان کی خدمات کیا ہے ، اس سے زیادہ تر لوگ ناواقف تھے ۔ اب سماج میں شعور بیداری ہورہی ہے ۔ جس میں انٹرنیٹ کا بھی اہم رول ہے ۔ پہلے کوچنگ سنٹرس دہلی میں ہوا کرتے تھے جس سے دہلی سے متصل ریاستوں کے طلبہ ہی زیادہ منتخب ہوا کرتے تھے ۔ انٹرنیٹ کے دستیاب ہوجانے کے بعد سیول سرویس کی کیسے تیاری کی جانی چاہئے اس کی معلومات عام ہوگئی ہیں اور ساتھ ہی حیدرآباد میں اچھے اور معیاری کوچنگ سنٹرس قائم ہوگئے جس کے نتیجہ میں طلبہ سیول سرویس پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں ۔ حیدرآباد اور تلگو ریاستوں کے طلبہ شمالی ہند کی ریاستوں کو ٹکر دے رہے ہیں ۔۔ ن