حیدرآباد سے 1946 ء میں 18 عازمین حج کی روانگی

,

   

Ferty9 Clinic

ہندوستان سے حج کو پہلی فلائیٹ، حیدرآباد کے عازمین حج کو منفرد اعزاز

حیدرآباد۔7 ۔ اگست (سیاست نیوز) حج 2019 ء کے آغاز کے لئے دو دن باقی ہیں اور حیدرآباد عازمین حج کی روانگی کے سلسلہ میں ایک عظیم تاریخ رکھتا ہے ۔ 72 سال قبل حیدرآباد کے بیگم پیٹ ایرپورٹ سے صرف 18 عازمین حج کے ساتھ دکن ایرویز کا طیارہ سعودی عرب کے لئے روانہ ہوا تھا۔ حیدرآباد سے بذریعہ طیارہ عازمین کا یہ پہلا قافلہ تھا ۔ اب جبکہ حیدرآباد سے 8000 سے زائد عازمین روانہ ہوئے جن کا تعلق پانچ ریاستوں سے ہے، ایسے وقت میں عازمین کی حیدرآباد سے روانگی کی دلچسپ تاریخ قارئین سیاست کیلئے پیش کی جارہی ہے۔ دکن ایرویز کا ڈکوٹا ایرکرافٹ 22 اکتوبر 1946 ء کو بیگم پیٹ ایرپورٹ سے روانہ ہوا تھا ۔ حیدرآباد کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ہندوستان سے عازمین حج کا پہلا طیارہ 1946 ء میں یہیں سے روانہ ہوا اور ملک بھر میں عازمین حج کی بذریعہ طیارہ روانگی کا آغاز حیدرآباد سے ہوا ۔ ہندوستان کے کسی بھی دوسرے شہر سے جدہ کیلئے کوئی فلائیٹ نہیں تھی۔ عازمین حج سمندر کے راستے روانہ ہوتے تھے۔ دکن ایرویز جو برطانوی راج میں ہندوستان کی سرکردہ ایرلائینس میں شامل تھی، اس نے حج کے لئے ریگولر چارٹرڈ فلائیٹس کا اہتمام کیا۔ پولیس ایکشن کے فوری بعد 1949 ء سے حج فلائیٹس کا آغاز ہوا۔ 1948 ء میں غیر یقینی سیاسی صورتحال کے سبب دکن ایرویز کی خدمات مفلوج رہیں۔ تاہم نئی حکومت کے قیام کے بعد خدمات کو بحال کردیا گیا۔

انٹیک کے سٹی کنوینر پی انورادھا ریڈی کے مطابق حیدرآبادی حاجی ہندوستان کی پہلی حج فلائیٹ سے روانہ ہوئے اور انہیں کئی اہم اسلامی مقامات کے دورہ کا موقع ملا جن میں شام ، مصر اور عراق شامل ہیں۔ پہلی فلائیٹ کے عملہ میں کیپٹن Cox ، جونیئر کیپٹن منشی شامل تھے۔ ان کے ساتھ ریڈیو آفیسر ناصر اور فلائیٹ انجنیئر لارڈ نے تکنیکی تعاون کیا۔ آرکیالوجیکل دستاویزات کے مطابق اس ولائیٹ میں خان بہادر نواب احمد نواز جنگ شامل تھے۔ 21 نشستی ڈکوٹا فلائیٹ میں 21 اکتوبر کی صبح 10.10 بجے اللہ اکبر کی گونج میں اڑان بھری ۔ ایرپورٹ کے قریب ٹریفک جام تھی کیونکہ ہزاروں افراد اس تاریخی منظر کے مشاہدہ کیلئے جمع ہوئے تھے ۔ حکومت کی تبدیلی کے بعد حج فلائیٹ 5 ستمبر 1949 ء کو حکیم پیٹ ایرپورٹ سے روانہ ہوئی جس کے کیپٹن Downey اور کو پائلٹ ایس جے علی تھے۔ براہ ممبئی ، کراچی ، شارجہ ، بصرہ ، بغداد اور قاہرہ سے ہوتی ہوئی جدہ پہنچی۔ (بشکریہ ٹائمس آف انڈیا)