حیدرآباد شہر میں جائیدادوں کی خرید و فروخت میں نمایاں گراوٹ

   

رجسٹریشن سے ہونے والی آمدنی میں 16 فیصد ہی ریکارڈ ، نائٹ فرینک انڈیا کی رپورٹ
حیدرآباد۔11فروری(سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں جائیدادوں کی خرید و فروخت میں نمایاں گراوٹ ریکارڈ کی جانے لگی ہے اور سال گذشتہ ماہ جنوری2025 اور جاریہ ماہ جنوری 2026 کا جائزہ لیا جائے تو مجموعی اعتبار سے جائیدادوں کے رجسٹریشن میں 14 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ رجسٹریشن کے ذریعہ حاصل ہونے والی آمدنی میں 16 فیصد کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ رئیل اسٹیٹ کے رجحانات میں ریکارڈ کی جانے والی تبدیلیوں کا جائزہ لینے والی کمپنی نائٹ فرینک انڈیا کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق شہر حیدرآباد میں جنوری 2025کے دوران جملہ 5464جائیدادوں کے رجسٹریشن ہوئے تھے لیکن جاریہ سال جنوری کے دوران اس میں 14 فیصد کی گراوٹ کے بعد محض 4686 جائیدادوں کے رجسٹریشن ریکارڈ کئے گئے ہیں۔ نائٹ فرینک کی رپورٹ کے مطابق سال 2025 جنوری کے دوران 3463 کروڑ کی مالیت کی جائیدادوں کے رجسٹریشن ریکارڈ کئے گئے تھے اور جاریہ سال یعنی جنوری 2026کے دوران اس میں 16فیصد کی گراوٹ کے بعد محض 2917کروڑ مالیت کی جائیدادوں کے رجسٹریشن ریکارڈ کئے گئے ہیں۔محکمہ اسٹامپس اینڈ رجسٹریشن کی جانب سے جاری کئے جانے والی تفصیلات کے حوالہ سے ایجنسی نے بتایا کہ دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد کے حدود میں جائیدادوں کی خریدی کے رجحان میں ریکارڈ کی جانے والی گراوٹ میں زائد از ایک کروڑ کی جائیدادوں کی خریدی میں مجموعی اعتبار سے 17 فیصد کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق سال 2025 جنوری کے دوران مجموعی اعتبار سے شہر حیدرآباد میں 823 ایک کروڑ سے زائد مالیت کے مکانات کی فروخت عمل میں آئی تھی جبکہ جاری سال جنوری 2026کے دوران مجموعی اعتبار سے اس میں 17 فیصد کی گراوٹ کے بعد محض 684 ایسے مکانات کے رجسٹریشن ممکن ہوپائے ہیں جن کی قیمت ایک کروڑ سے زائد ہے۔بتایاجاتاہے کہ شہر حیدرآباد میں جنوری 2025کے دوران جو جائیدادیں سب سے زیادہ رجسٹرڈ کی گئی ہیں ان میں 1000تا2000 مربع فیٹ کی جائیدادیں ہی رہیں جو کہ جملہ رجسٹریشن والی جائیدادوں میں مجموعی طور پر 65 فیصد ہے جبکہ گذشتہ برس 1000تا2000 مربع فیٹ کی جائیدادوں کا رجسٹریشن محض 14 فیصد تھا ۔ماہرین کے مطابق رجسٹریشن میں ریکارڈ کی جانے والی کمی کے باوجود جائیدادوں کی قیمتوں میں کسی بھی طرح کی گراوٹ ریکارڈ نہیں کی جا رہی ہے اور قیمتیں جوں کی توں برقرار ہیں۔3