حیدرآباد عصری ٹکنالوجی کا شہر : لارڈ احمد

   

برطانوی وزیر کا دورہ ، برطانیہ میں ہندوستانی طلباء کیلئے تعلیم و روزگار کے مواقع
حیدرآباد : /30 مئی (سیاست نیوز) برطانوی وزیر لارڈ احمد نے آج کہا کہ شہر حیدرآباد ٹکنالوجی کا شہر ہے جہاں پر تنوع پایا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کے نوجوانوں میں بھی تہذیب اور تمدن ہے ۔ ہندوستان کے دورہ پر آئے ہوئے برطانیہ کے وزیر نے حیدرآباد پہنچنے سے قبل جودھ پور کا بھی دورہ کیا ۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کے دوران شہر حیدرآباد میں انہوں نے کہا کہ یہ ان کا حیدرآباد کا دوسرا دورہ ہے اور اس دورہ میں انہوں نے پرانے شہر کے تاریخی مقامات کا مشاہدہ کرنے کے علاوہ ٹی ہب بھی پہنچ کر وہاں پر سرکاری عہدیداروں سے تبادلہ خیال کیا ۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ حیدرآباد ایک نمایاں شہر ہے اور یہاں پر ہر مذہب اور ہر طبقہ کو کھلی آزادی ہے جبکہ یہ شہر تہذیب کیلئے بھی جانا جاتا ہے ۔ لارڈ احمد نے کہا کہ کورونا وائرس وبا کے بعد برطانیہ کو آنے والے ہندوستانی طلبہ کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے چونکہ برطانوی حکومت نے طلبہ کیلئے امیگریشن پالیسی میں ترمیم کرتے ہوئے تعلیم ختم ہونے کے بعد 2 سال کیلئے ملازمت فراہم کرنے کا قانون بنایا ہے ۔ اس کے تحت سینکڑوں ہندوستانی طلبہ اپنے تعلیمی کورس مکمل کرنے کے بعد روزگار کے بہترین مواقع حاصل کررہے ہیں ۔ لارڈ احمد نے کہا کہ برطانیہ میں دنیا کی سب میں مشہور یونیورسٹیز موجود ہیں جہاں پر نمایاں تعلیم دی جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ جو جمہوری ملک ہے یہاں پر تنوع پایا جاتا ہے اور یہاں پر مقیم افراد شہریوں اور دیگر کو مختلف قسم کی آزادی ہے اور یہاں پر مسجد ، مندر ، گرجا گھر اور گرودوارے ہر شہر میں موجود ہیں ۔ لارڈ احمد نے کہا کہ کورونا وائرس وباء کے دوران ہندوستان اور برطانیہ کے تعلقات مزید بہتر ہوئے ہیں چونکہ وباء کے دوران ہندوستان نے برطانیہ کو بھاری مقدار میں پیراسٹمل کی گولیاں فراہم کی تھیں اور برطانیہ نے ہندوستان کو آکسیجن فراہم کی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ رشیا اور یوکرین کی جنگ دنیا کیلئے ایک چیلنج ہے اور برطانیہ کے معاشی حالات بھی اس سے متاثر ہوئے ہیں ۔ لارڈ احمد نے کہا کہ آئندہ مہینوں میں برطانیہ کے 8 کابینہ کے وزراء جی 20 سمٹ میں شرکت کیلئے ہندوستان آرہے ہیں ۔ واضح رہے کہ لارڈ احمد برطانیہ کے دفتر خارجہ ، دولت مشترکہ و ترقیات (ایف سی ڈی او) مملکتی وزیر برائے مشرق وسطیٰ ، شمالی افریقہ ، جنوبی ایشیا اور اقوام متحدہ ہیں ۔ وہ لڑائیوں کے دوران انسداد جنسی زیادتی کیلئے وزیراعظم کے خصوصی نمائندہ بھی ہیں ۔ ب