حیدرآباد ملک کا ڈرون دارالحکومت بنتا جا رہا ہے ‘ ٹکنالوجی کا موثر استعمال

   

ملک کے ٹاپ شہروں سے نہیں بلکہ چین سے بھی مقابلہ کی اہلیت ۔جوائنٹ سکریٹری وزارت شہری ہوابازی کا تاثر

حیدرآباد 19 ستمبر ( سیاست نیوز ) ٹکنالوجی کے استعمال اور اس کے ذریعہ ترقی کے معاملے میں تلنگانہ ریاست دوسروں پر سبقت لیتی جا رہی ہے ۔ ریاست میں ڈرون ٹکنالوجی کے استعمال اور اس کو فروغ دئے جانے کے نتیجہ میںڈرون کمپنیوں کیلئے مواقع بڑھ گئے ہیں۔ اس طرح حیدرآباد اب ڈرون دارالحکومت کے طور پر ابھرتا جارہا ہے ۔ وزارت شہری ہوابازی کے ایک عہدیدار نے اس رائے کا اظہار کیا ۔ جوائنٹ سکریٹری وزارت شہری ہوابازی عنبر دوبے نے کہا کہ حکومت حیدرآباد میں نہ صرف ملک کے دوسرے ٹاپ شہروں سے مسابقت کی صلاحیت موجود ہے بلکہ وہ چین اور معربی دنیا سے بھی ڈرون شعبہ میں مقابلہ کرسکتا ہے ۔ واضح رہے کہ حکومت تلنگانہ نے حال ہی میں میڈیسن فرم اسکائی مہم کا آعاز کیا ہے جو ایشیا میںسب سے پہلی مرتبہ ڈرون کے ذریعہ ادویات کی منتقلی کی مہم ہے ۔ وقار آباد ضلع میں اس کا کامیاب تجربہ بھی کیا جاچکا ہے ۔ اس پہل کے ذریعہ انتہائی دور دراز کے علاقوں اور ضرورت مند طبقات تک نگہداشت صحت کی ضروریات اور ادویات پہونچائی جاسکتی ہیں۔ اس پہل کو نیتی آیوگ ‘ عالمی معاشی فورم اور ہیلت نیٹ گلوبل ( اپولو ہاسپٹل ) کی مدد بھی حاصل ہے ۔ عنبر دوبے نے کہا کہ شہر میںبے شمار مواقع دستیاب ہیں۔ حیدرآباد بہت تیزی سے ڈرون دارالحکومت کے طور پر ابھر رہا ہے اور ڈرون صنعت کو حکومت سے بہت زیادہ مدد مل رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ وقارآباد تجربہ میں حکومت کے ذمہ داران نے بھی شرکت کی جس سے حکومت کے عزم اور ویژن کا پتہ چلتا ہے تاکہ اس کے نچلی سطح تک اثرات پہونچائے جاسکیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈرون ٹکنالوجی سے کئی شعبہ جات میں فائدہ حاصل کیا جاسکتا ہے ۔ خاص طور پر زرعی شعبہ میں نچلی سطح تک اس کے اثرات دکھائی دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کی فصلوں کو بہتر بنانے میں بھی ڈرونس معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے دور دراز علاقوں تک ڈرون ٹکنالوجی کو عام کرنے پر حکومتوں کی توجہ مرکوز ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ ڈرون شعبہ میں تلنگانہ شاندار کارکردگی دکھا رہی ہے اور حکومت کا طرز عمل بھی بہترین ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت بھی ڈرون منظوری کو تیز رفتار بنانے کی جدوجہد کریگی جس سے بہتر اور موثر ڈھنگ سے ترقی ممکن ہوسکے گی ۔