حیدرآباد۔ سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے الزام عائد کیا کہ ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی راما راؤ حیدرآباد کی ترقی اور خاص طور پر حیدرآباد میٹرو ریل پراجکٹ کے بارے میں جھوٹے دعوے کرتے ہوئے عوام کو گمراہ کررہے ہیں۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ حیدرآباد میٹرو ریل کا سنگ بنیاد اکٹوبر 2005 میں رکھا گیا تھا جس وقت وہ وائی ایس راج شیکھر ریڈی کابینہ میں حیدرآباد کے انچارج وزیر تھے۔ کے ٹی آر حیدرآباد کی ترقی سے متعلق رپورٹ میں جو 20 نومبر کو جاری کی گئی پراجکٹ کا سہرا ٹی آر ایس حکومت کے سر باندھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ کے ٹی آر نے پراجکٹ پر ٹی آر ایس حکومت کی جانب سے 17290 کروڑ خرچ کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو بے بنیاد اور گمراہ کن ہے۔ ریاستی حکومت پراجکٹ میں صرف 10 فیصد کی حصہ دار ہے۔ 2005 میں پراجکٹ کے آغاز کے بعد سے حکومت نے تقریبا 2700 کروڑ خرچ کئے۔ پراجکٹ کی لاگت کو تبدیل کرتے ہوئے 18800 کروڑ کیا گیا اور مرکز کو 10 فیصد حصہ داری کے حساب سے رقم ادا کرنی تھی لیکن مرکز نے صرف 1200 کروڑ جاری کئے اور مزید 600 کروڑ کی اجرائی باقی ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ پراجکٹ کی حقیقی لاگت 14500 کروڑ تھی جس کو نومبر 2017 میں از سر نو جائزہ لیتے ہوئے 18800 کروڑ کیا گیا۔ ٹی آر ایس کی جانب سے میٹرو ریل کی روٹ پر اعتراضات کے سبب پراجکٹ میں تاخیر ہوئی اور لاگت میں 3000 کروڑ کا اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ میٹرو ریل پراجکٹ میں ٹی آر ایس کی حصہ داری صفر ہے لیکن کے ٹی آر عوام کو گمراہ کررہے ہیں۔ محمد علی شبیر نے میٹرو ریل پراجکٹ مسئلہ پر کے ٹی آر کو کھلے مباحث کا چیلنج کیا اور کہا کہ اگر کے ٹی آر ٹی آر ایس حکومت کی جانب سے 17290 کروڑ خرچ کرنے کو ثابت کردیں گے تو وہ سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرلیں گے۔ انہوں نے کرشنا اور گوداوری کے پانی کی حیدرآباد سربراہی سے متعلق دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ڈسمبر 2008 میں گوداوری پراجکٹ کا 3375 کروڑ سے آغاز کیا گیا تھا جس کے تحت 10 ٹی ایم سی پانی حیدرآباد کو منتقل کیا جانا تھا۔ اسی طرح کرشنا واٹر سپلائی پراجکٹ کا ڈاکٹر ایم چنا ریڈی دور حکومت میں منصوبہ تیار ہوا اور 1994 میں کے وجئے بھاسکر ریڈی نے سنگ بنیاد رکھا تھا۔ اس پراجکٹ کے تحت ناگرجنا ساگر سے تین مراحل میں حیدرآباد کو 16.5 ٹی ایم سی پانی کی سربراہی کی جانی تھی۔ پہلا مرحلہ 2004 اور دوسرا مرحلہ 2008 میں مکمل ہوا۔ 2013 میں تیسرے مرحلہ کیلئے سنگ بنیاد رکھا گیا اسوقت محمد علی شبیر حیدرآباد کے انچارج وزیر تھے۔ انہوں نے بستی دواخانہ سے متعلق کے ٹی آر کے دعوؤں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت نے پرائمری ہیلت سنٹرس کو نظرانداز کردیا ہے۔ کے سی آر دور حکومت میں محکمہ صحت کو نظرانداز کردیا گیا۔ انہوں نے حیدرآباد ڈیولپمنٹ رپورٹ میں کئے گئے دعوؤں پر کھلے مباحث کا چیلنج کرتے ہوئے وقت اور مقام کا تعین کرنے کا کے ٹی آر کو اختیار دیا ہے۔