حیدرآباد میٹرو واٹر بورڈ کو 3086 کروڑ روپئے وصول طلب

   

ریاستی و مرکزی محکمے 1876 کروڑ مشین بھاگیرتا 250 کروڑ و عوام سے 828 کروڑ باقی
حیدرآباد ۔ 3 مئی (سیاست نیوز) حیدرآباد میٹرو واٹر ورکس اینڈ سیوریج بورڈ کو پانی بلز کے بقایاجات بوجھ بن رہے ہیں۔ مرکزی اور ریاستی محکمہ جات کے بشمول صارفین سے جملہ 3086 کروڑ روپئے وصول طلب ہیں جس کی وجہ سے واٹر بورڈ کو مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ بورڈ کے اعلیٰ عہدیداروں نے حال ہی میں ایک جائزہ اجلاس منعقد کیا۔ ہزار و کروڑہا روپئے کے بقایاجات کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔ بقایاجات کی بروقت عدم وصولی کی وجوہات کا جائزہ لیا گیا اور متعلقہ عہدیداروں سے وضاحت طلب کی گئی تو ان کا جواب تھا صارفین سے وصول کرنے میں کوئی نہ کوئی کارروائی کی جاسکتی ہے مگر سرکاری محکمہ جات سے سوائے انتظار کے دوسرا کوئی راستہ نہیں تھا جس پر بورڈ کے ایگزیکیٹیو ڈائرکٹر مائنیک مٹل نے طویل عرصہ سے زیرالتواء پانی کے بلز وصول کرنے خصوصی حکمت عملی تیار کرنے کی متعلقہ حکام کو ہدایت دی۔ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں عوام کے ساتھ مرکزی و ریاستی محکمہ جات کے دفاتر کو واٹر بورڈ سے پانی سربراہ کیا جارہا ہے۔ تاہم ان محکمہ جات سے ماہانہ بلز ادا کرنے کی بجائے برسوں سے زیرالتواء رکھا جارہا ہے۔ بورڈ کے حدود میں 13.80 لاکھ نل کے کنکشن ہیں جن میں 75 فیصد ڈومیسٹک 10 فیصد سرکاری دفاتر کے کنکشنس ماباقی کمرشل کنکشنس ہیں۔ مرکزی حکومت کے اداروں سے 236 کروڑ ‘ریاستی حکومت سے 1,640 کروڑ گھریلو کنکشن سے 828 کروڑ سلم علاقوں کو مفت پانی کے 106 کروڑ ہمہ منزلہ عمارتوں کے کنکشنس سے 26 کروڑ روپئے وصول طلب ہیں۔ ان میں ریاستی و مرکزی حکومت کے اداروں سے 1876 کروڑ روپئے وصول طلب ہیں۔ خانگی افراد سے 960 کروڑ وصول طلب ہیں۔ شہر کے متصل اضلاع بھونگیر، جنگاؤں، گجویل کے علاوہ دیگر علاقوں کو مشن بھاگیرتا اسکیم کے ذریعہ پانی سربراہ کیا جارہا ہے۔ مشین بھاگیرتا کو واٹر بورڈ بلک میں پانی سربراہ کرنا ہے جس سے ابھی تک 250 کروڑ روپئے وصول طلب ہیں۔ حیدرآباد کو واٹر بورڈ یومیہ 550 ایم جی ڈی پانی سربراہ کرتا ہے جس سے ماہانہ 200 کروڑ کی آمدنی ہونی چاہئے مگر فی الحال 100 تا 110 کروڑ روپئے سے زیادہ وصول نہیں ہورہے ہیں ۔ زیرالتواء بلز کی وصولی کیلئے ڈیمانڈ نوٹس جاری کیا جارہا ہے۔2