حیدرآباد ۔ لکھنؤ سوپر جائنٹس ہفتہ کو یہاں ایک لازمی جیتنے والے آئی پی ایل میچ میں نوجوان کلائی اسپنر روی بشنوئی کے ساتھ میزبان سن رائزرس حیدرآباد کے خلاف جیتنے کے طریقوں پر واپس آنے کے لئے کوشاں ہوگی ۔ لکھنؤ اپنے آخری تین میں سے دو میچ ہار چکی ہے، اگر وہ ایڈن مارکرم کی ٹیم کو مات دیتی ہے، جو 10 ٹیموں کے ٹیبل میں نویں نمبر پر ہے تو اس کیلئے حالات بہتر ہوں گے ۔ تاہم حیدرآباد کے اپل میں موجود راجیو گاندھی انٹر نینشل اسٹیڈیم کی وکٹ پر ہمالیائی اسکور آسان نہیں ، اسپنرز کا کردار سب سے اہم ہوگا، اور اسی جگہ بشنوئی، تجربہ کار امپیکٹ سب امیت مشرا اور خود کپتان کرونل پانڈیا منظر نامہ میں آسکتے ہیں ۔اسپن کیلئے سازگار وکٹ پر میزبان حیدرآباد کے خلاف لکھنؤ کے اسپنرس کواپنا کام کرنا ہوگا جس کی بیٹنگ ان کے تین بیرون ملک کھلاڑیوں ایڈن مارکرم، ہینرک کلاسن اور گلین فلپس پر منحصر ہے۔ فلپس 13.25 کروڑ روپے میں ہیری بروک کی پہلی نومقابلوں میں 163 رنز کی مایوس کن کارکردگیکے بعد پلیئنگ الیون میں ایک نئے کھلاڑی ہیں۔اپنی تیزگوگلیز کے ساتھ بشنوئی 12 وکٹوں حاصل کرچکے ہیں اور وہ حیدرآباد کے بیرون ملک تینوں کھلاڑیوںکو پریشانی میں ڈال سکتے ہیں جبکہ مشرا کی چال اور کرونال کی مسلسل وکٹیں لینے کی کارکردگی آرنج آرمی کے خلاف کلیدی ثابت ہوسکتی ہے۔ حیدرآباد میں ٹریک تھوڑا سا سست ہے اور اسپنرز، جو زیادہ رفتار سے بولنگ کرتے ہیں یقیناً دوسروں پر برتری حاصل کریں گے۔اگر کھلاڑیوں کا موازنہ کیا جائے تو ایل ایس جی کے اسپنرزکو بہتر طور پر سبقت حاصل رہے گی کیونکہ واشنگٹن سندر کے ٹورنمنٹ سے باہر ہونے کی وجہ سے حیدرآباد کو پہلے ہی نقصان پہنچا ہے۔ ان کے لیے مسلسل اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے واحد اسپنر میانک مارکنڈے ہیں، جنہوں نے آٹھ میچوں میں 7.31 کی اکانومی ریٹ سے 11 وکٹیں حاصل کیں۔حیدرآباد جو کاغذ پر ایک اچھی ٹیم نظر آرہی تھی، کوکئی اعتبار سے نقصان اٹھانا پڑا ہے لیکن بنیادی طور پر دو اہم ہندوستانی بیٹروں میانک اگروال (9 میچوں میں 187 رنز) اور راہول ترپاٹھی (10 میچوں میں 237 رنز) کی فارم خراب ہونے کی وجہ سے زیادہ نقصان ہوا ہے ۔ ان کے 114.02 اور 127.41 کے خراب اسٹرائیک ریٹ پوری کہانی بیان کرتے ہیں۔درحقیقت، کلاسن (185.34) کو چھوڑ کر، 150 پلس اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ صرف دوسرا ٹاپ آرڈر بیٹر اوپنر ابھیشیک شرما (152.63) ہے۔جہاں تک لکھنؤ کی بیٹنگ کا تعلق ہے، باقاعدہ کپتان کے ایل راہول کا باہر ہونا ایک نعمت ثابت ہوا ہے جس میں کوئنٹن ڈی کاک اور کائل مائر دونوں نے برق رفتارحملہ کیا۔تاہم، مارکس اسٹوئنس (139 کے اسٹرائیک ریٹ پر 239 رنز ) اور نکولس پوران (160گیندوں پر 248 رنز) کو مایوس کن مظاہروں کے بعد مزید کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔آیوش بدونی (212 رنز) بھی بہت مؤثر رہے ہیں، لیکن یہ لکھنؤ کی سست بیٹنگ ہے جو بیٹنگ شعبہ سے ٹیم کی کامیابی میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ یہ میچ یقینی طور پر لکھنؤ ٹیم کو اپنی بیٹنگ کی طاقت کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے کا موقع فراہم کرے گا، لیکن انہیں بھونیشور کمار اور ٹی نٹراجن کی جوڑی کا سامنا بھی رہے گا۔مقابلے کا آغاز دوپہر 3:30 بجے ہوگا