حیدرآباد میں آلودگی کی سطح میں اضافہ خطرناک

   

حیدرآباد ۔ 27 ۔ فبروری ( سیاست نیوز ) حیدرآباد میں آلودگی کی سطح میں جو اضافہ ہورہا ہے اس سے گویا خطرہ کی گھنٹی بج رہی ہے اور ماہرین کی جانب سے خبردار کیا جارہا ہے کہ شہر حیدرآباد جنوبی ہند میں ایک نہایت آلودگی والا سنٹر بن جائیگا اور اس معاملہ میں بڑے شہروں جیسے بنگلورو اور چنائی سے آگے ہوجائیگا ۔ حالانکہ آلودگی کی سطح میں گزشتہ سال کے مقابل قدرے کمی دیکھی گئی پھر بھی یہ ورلڈ ہیلت آرگنائزیشن ( ڈبلیو ایچ او ) اور سی پی سی آر کے مقررہ معیارات سے زیادہ ہے ۔ ماہرین ماحولیات نے انتباہ دیا کہ آلودگی میں ہورہا ہے یہ اضافہ دھیما زہر کا کام کرتا ہے کیونکہ زہر بتدریج انسانی جسم میں داخل ہوتا ہے جس کی وجہ تنفس کے امراض الرجیز اور دمہ کے کیسیس میں اضافہ ہوتا ہے ۔ موسم سرما کے مہینوں کے دوران ایرکوالٹی انڈیکس ( اے کیو آئی بار بار بہت غیر صحت مند زمرہ کا ہوجاتا ہے ۔ ذخائر آب عثمان ساگر اور حمایت ساگر کو بھی اب شدید آلودگی کا سامنا ہے ۔ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کی جانب سے کی گئی ایک اسٹڈی میں معلوم ہوا کہ ان ذخائر آب میں سیوریج کے بہاؤ انڈسٹریل ڈسچارج ، اگریکلچر رن آف سلفرڈائی آکسائیڈ کے باعث پانی کے معیار میں خطرناک ابتری ہورہی ہے اور شہر میں آلودگی میں خطرناک اضافہ ہورہا ہے ۔ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی ، کانپور کی ایک حالیہ رپورٹ میں حیدرآباد میں آلودگی میں ہورہے اضافہ کے طویل مدتی مضر اثرات کے بارے میں آگاہ کیاگیا ہے ۔ A