ضلع کلکٹر انودیپ درشٹی کی صدارت میں پروٹیکشن کمیٹی کا اجلاس
ناجائز قبضوں کی برخواستگی اولین ترجیح، وقف بورڈ سے تفصیلات طلب
حیدرآباد۔/6 اگسٹ، ( سیاست نیوز) ضلع کلکٹر حیدرآباد انودیپ درشٹی ( آئی اے ایس ) نے حیدرآباد میں اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے تمام محکمہ جات کو بہتر تال میل کے ذریعہ خدمات انجام دینے کی ہدایت دی۔ ڈسٹرکٹ وقف پروٹیکشن اینڈ کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس کلکٹر حیدرآباد کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں پولیس، جی ایچ ایم سی، لینڈ سروے اور دیگر محکمہ جات کے عہدیداروں نے شرکت کی۔ واضح رہے کہ فروری 2021 کو جی او ایم ایس 3 کے ذریعہ ہر ضلع میں ضلع کلکٹر کی صدارت میں وقف پروٹیکشن اینڈ کوآرڈینیشن کمیٹی کی تشکیل کا فیصلہ کیا گیا۔ حیدرآباد میں کمیٹی تشکیل دی گئی لیکن اس کا پہلا اجلاس آج منعقد ہوا۔ ایڈیشنل کلکٹر وینکٹ چاری، آر ڈی او مہیپال ریڈی، آر ڈی او سکندرآباد دشرتھ، ایڈیشنل ڈی سی پی سنٹرل زون، اسسٹنٹ سٹی پلانر جی ایچ ایم سی، ڈسٹرکٹ رجسٹرار حیدرآباد، اسسٹنٹ ڈائرکٹر سروے اینڈ لینڈ ریکارڈس، ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسر الیاس احمد اور وقف بورڈ کے عہدیداروں نے شرکت کی۔ ضلع کلکٹر انودیپ درشٹی نے کہا کہ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے محکمہ جات کے درمیان بہتر تال میل کی ضرورت ہے۔ انہوں نے وقف بورڈ کو ہدایت دی کہ حیدرآباد میں موجود اوقافی جائیدادوں، عدالتوں میں زیر دوران مقدمات، ناجائز قبضوں اور دیگر تفصیلات اندرون ایک ہفتہ پیش کی جائیں تاکہ ایکشن پلان تیار کرتے ہوئے صیانت کے اقدامات کئے جاسکیں۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ تین برسوں میں جو ناجائز قبضے ہوئے ہیں ان پر فوری توجہ مرکوز کی جائے گی۔ ضلع کلکٹر نے کہا کہ آئندہ اجلاس میں ایکشن پلان تیار کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری محکمہ جات کو انفرادی طور پر کام کرنے کے بجائے تال میل کے ذریعہ اوقافی جائیدادوں کا تحفظ کرنا چاہیئے۔ ضلع کلکٹر نے بتایا کہ حیدرآباد میں 1784 ایکر اوقافی اراضی کی نشاندہی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ناجائز قبضوں کی برخواستگی کے علاوہ غیر مجاز رجسٹریشن کو روکنے کے اقدامات کئے جائیں گے۔ انہوں نے وقف بورڈ کے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ کوآرڈینیشن کمیٹی میں موجود تمام محکمہ جات کو اوقافی جائیدادوں اور ان کے موجودہ موقف کے بارے میں رپورٹ پیش کریں۔1