حیدرآباد 6 جنوری (سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر ارکان نے حیدرآباد میں آلودگی پر قابو پانے کیلئے مؤثر اقدامات کی اپیل کی۔ وقفہ سوالات کے دوران حکومت کی الیکٹرک وہیکل پالیسی اور آلودگی پر قابو پانے کے مسئلہ پر 2 علیحدہ سوالات ایجنڈہ میں شامل تھے۔ دونوں سوالات کے دوران تقریباً تمام سیاسی پارٹیوں کے ارکان نے مباحث میں حصہ لیتے ہوئے دہلی میں آلودگی کی سنگین صورتحال کا حوالہ دیا۔ ارکان کا کہنا تھا کہ نئی دہلی جیسی صورتحال سے حیدرآباد کو بچانے کے لئے جنگی خطوط پر اقدامات کئے جائیں۔ بی جے پی رکن وینکٹ رمنا ریڈی نے کہاکہ الیکٹرک گاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے سلسلہ میں اہم رکاوٹ چارجنگ اسٹیشنوں کی کمی ہے۔ عوام کو گاڑیوں کی چارجنگ کے سلسلہ میں دشواریوں کا سامنا ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ تلنگانہ میں تقریباً 70 ہزار الیکٹرک گاڑیاں چلائی جارہی ہیں۔ آلودگی پر قابو پانے کے لئے حکومت کو الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے۔ اُنھوں نے ارکان اسمبلی کے علاوہ وزراء کی جانب سے الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کی تجویز پیش کی۔ بی جے پی رکن پی ہریش بابو نے کہاکہ 2 وہیلرس اور 4 وہیلر گاڑیوں میں الیکٹرک گاڑیوں سے متعلق عوام میں دلچسپی پائی جاتی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ عوام الیکٹرک گاڑیوں کی خریدی کے لئے تیار ہیں تاہم حکومت کو ٹیکسوں میں رعایت دینی چاہئے۔ اُنھوں نے سرکاری دفاتر میں چارجنگ سنٹرس کے قیام کا مشورہ دیا ہے۔ کانگریس رکن ڈی ناگیندر اور رام موہن ریڈی نے آلودگی پر قابو پانے کے لئے ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے مناسب جانچ کا مشورہ دیا۔ ارکان نے کہاکہ زائد مسافت تک چلنے والی بیاٹریز کو تیار کیا جائے تاکہ چارجنگ کے سلسلہ میں عوام کو دشواری نہ ہو۔1
حیدرآباد میں آلودگی پر قابو پانے 40 ہزار سے زائد مقدمات
فٹنس اور پولیوشن سرٹیفکٹ کے بغیر گاڑی چلانے پر جرمانہ، اسمبلی میں وزیر ٹرانسپورٹ کا بیان
حیدرآباد 6 جنوری (سیاست نیوز) وزیر ٹرانسپورٹ پونم پربھاکر نے کہاکہ حیدرآباد میں گاڑیوں کی آلودگی پر قابو پانے کیلئے گزشتہ 24 ماہ کے دوران 40 ہزار سے زائد مقدمات درج کئے گئے اُن میں 22340 کیسیس فٹنس سرٹیفکٹ کے بغیر چلنے والی گاڑیوں کے خلاف جبکہ 27976 کیسیس پولیوشن سرٹیفکٹ کے بغیر چلنے والی گاڑیوں کے خلاف درج کئے گئے۔ دونوں مقدمات سے علی الترتیب 4.28 کروڑ اور 2.39 کروڑ حاصل ہوئے ہیں۔ اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران مدن موہن راؤ کے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر ٹرانسپورٹ نے آلودگی پر قابو پانے کے لئے اقدامات کی تفصیلات بیان کیں۔ اُنھوں نے کہاکہ ریاست میں جملہ ایک کروڑ 80 لاکھ گاڑیاں ہیں جبکہ 550 پولیوشن ٹسٹنگ مراکز کارکرد ہیں۔ حکومت نے 15 خودکار ٹسٹنگ اسٹیشن قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پونم پربھاکر نے بتایا کہ آلودگی پر کنٹرول کے لئے 15 سال پرانی گاڑیوں کو اسکراپ پالیسی کے تحت ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سرکاری گاڑیوں اور آر ٹی سی کی بسوں کو بھی 15 سال کے بعد سڑک سے ہٹانے کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ اُنھوں نے بتایا کہ پہلے مرحلہ میں 15 اور دوسرے مرحلہ میں 20 آٹومیٹک پولیوشن ٹسٹنگ سنٹرس قائم کئے جائیں گے۔ وزیر ٹرانسپورٹ نے کانگریس رکن ڈی ناگیندر کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے حیدرآباد میٹرو واٹرس کی گاڑیوں کی پولیوشن ٹسٹنگ کا تیقن دیا۔ ڈی ناگیندر نے کہاکہ حیدرآباد میٹرو واٹر ورکس کی بیشتر گاڑیاں انتہائی قدیم ہیں اور آلودگی کا سبب بن رہی ہیں۔ اُنھوں نے خاص طور پر واٹر ٹینکرس کا حوالہ دیا۔ پونم پربھاکر نے حیدرآباد میٹرو واٹر ورکس کے علاوہ دیگر سرکاری محکمہ جات کی گاڑیوں کی جانچ کے لئے نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ اسکول بسوں کے علاوہ آئی ٹی اور فارما کمپنیوں کی گاڑیوں کی بھی پولیوشن ٹسٹنگ کی جائے گی۔1
