کم از کم 100 کروڑ کی ضرورت، عہدیداروں کی رائے، کئی علاقے ہنوز پانی میں محصور
حیدرآباد: تلنگانہ میں بارش اور سیلاب کی تباہ کاریوں کے سلسلہ میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے مرکز سے 1350 کروڑ کی امداد کی اپیل کی ہے جبکہ حکومت کے تخمینہ کے مطابق ریاست میں مجموعی نقصانات 5000 کروڑ کے ہیں۔ تلنگانہ حکومت نے امدادی کاموں کے سلسلہ میں فنڈس جاری نہیں کئے اور اس کا مکمل انحصار مرکز سے حاصل ہونے والی امداد پر دیکھا جارہا ہے ۔ چیف منسٹر نے کل اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کرتے ہوئے نقصانات کا جائزہ لیا۔ گزشتہ 100 سال کا ریکارڈ توڑتے ہوئے بارش نے گریٹر حیدرآباد حدود میں زبردست تباہی مچائی ہے ۔ جانی اور مالی نقصانات کا ابھی تک صحیح اندازہ نہیں ہوسکا۔ اس قدر تباہی کے باوجود چیف منسٹر نے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کو امدادی کاموں کے سلسلہ میں محض 5 کروڑ روپئے جاری کئے جو کسی بھی اعتبار سے کافی قرار نہیں دیئے جاسکتے۔ چیف منسٹر کی جانب سے شہر کیلئے صرف پانچ کروڑ کی منظوری پر سیاسی حلقوں کے علاوہ عہدیداروں نے حیرت کا اظہار کیا ہے ۔ شہر میں جس قدر تباہی ہوئی ہے، اس کے مطابق کم سے کم 100 کروڑ روپئے کی اجرائی کی ضرورت تھی لیکن چیف منسٹر نے صرف پانچ کروڑ کا اعلان کیا۔ رقم کی اجرائی کے سلسلہ میں اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ آیا حکومت نقصانات کے تخمینہ کے بعد مزید رقم جاری کرے گی یا نہیں۔ حکومت نے مہلوکین کے لئے پانچ لاکھ روپئے ایکس گریشیا اور متاثرہ مکانوں کی حکومت کی جانب سے تعمیر کا اعلان کیا۔ ان تمام اعلانات کی تکمیل کیلئے کم سے کم 100 کروڑ کی ضرورت تھی لیکن چیف منسٹر نے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شہر کے وزراء اور عہدیداروں کی تجاویز کو نظر انداز کردیا۔ شہر میں جس قدر تباہی ہوئی ہے ، اس اعتبار سے صرف ایک علاقہ کی تباہ شدہ سڑکوں کی مرمت کے لئے پانچ کروڑ روپئے خرچ ہوجائیں گے ۔ شہر کا کوئی علاقہ ایسا نہیں جہاں بارش نے تباہی نہ مچائی ہو۔ کئی کالونیاں آج بھی پانی میں محصور ہیں اور ہزاروں خاندان غذا اور غذائی اجناس سے محروم ہوچکے ہیں۔ حکومت کی جانب سے اگر متاثرہ علاقوں میں غذائی اجناس کی تقسیم عمل میں آتی ہے ، تب بھی پانچ کروڑ روپئے کی رقم ناکافی ہوگی۔ ایکس گریشیا اور مکانات کی تعمیر کے سلسلہ میں حکومت کو علحدہ رقم کا اعلان کرنا چاہئے تھا ۔ حکومت نے پانچ کروڑ کا اعلان تو کیا لیکن اس کے خرچ کے طریقہ کار کے تعین کیلئے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے کئی جائزہ اجلاس منعقد ہوں گے اور یہ رقم جائزہ اجلاسوں کی نظر ہوجائے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ جائزہ اجلاس میں چیف منسٹر کی توجہ رقم میں اضافہ کے سلسلہ میں کسی نے مبذول نہیں کرائی کیونکہ ریاست کی معاشی صورتحال کمزور ہے۔ اب جبکہ حکومت امدادی کاموں کے لئے چیف منسٹر ریلیف فنڈ میں عطیات کا انتظار کر رہی ہے تو ایسے میں ریاست کے خزانہ سے مزید رقم کی اجرائی کے امکانات موہوم دکھائی دے رہے ہیں۔