ایئر کوالیٹی انڈیکس 367 تک پہنچ گیا، شہریوں کے مختلف امراض سے متاثر ہونے کا خدشہ
حیدرآباد۔31۔ڈسمبر(سیاست نیوز) ملک کا دوسرا دارالحکومت بنائے جانے سے قبل ہی شہر حیدرآباد کی ماحولیاتی آلودگی کی سطح ملک کے دارالحکومت دہلی کے طرز پر پہنچ چکی ہے۔ دہلی میں ماحولیاتی آلودگی کو دیکھتے ہوئے شہر حیدرآبا دکو ملک کا دوسری دارالحکومت بنانے کی منصوبہ بندی کو فروغ دینے کے اقدامات کی بات کی جا رہی تھی لیکن اس بات چیت کے دوران ہی شہر حیدرآباد کے بعد علاقوں میں ائیر کوائیلیٹی انڈیکس 367 تک پہنچ چکا ہے۔ دونوں شہروں کے کئی علاقوں میں جہاں ماحولیاتی آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ریکارڈکیا جارہا ہے کو روکنے کے لئے فوری طور پر اقدامات نہ کئے گئے تو ممکن ہے کہ شہریان حیدرآبادکو بھی جلد ہی پھیپھڑوں کے عوارض کے ساتھ دواخانوں سے رجوع ہونا پڑے گا۔ سال 2025 کے دوران ملک کے دارالحکومت دہلی میں تباہ کن ماحولیاتی آلودگی ریکارڈ کئے جانے کے بعد شہر حیدرآباد میں بھی آب ہوا میں اب اس قدر خرابی ریکارڈ کی جانے لگی ہے کہ ماہرین کایہ دعویٰ ہے کہ شہر حیدرآباد کے علاقہ سکندرآباد میں موجود ’’ٹیچرس کالونی‘‘ میں سانس لینا 19 سگریٹ پینے کے مترادف ہے۔ دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد کے بیشتر علاقوں بالخصوص گنجان آبادی والے علاقوں میں ماحولیاتی آلودگی میں ریکارڈ کئے جانے والے اضافہ کو روکنے کے لئے فوری طور پر اقدامات کئے جانے ضروری ہیں کیونکہ اگر ماحولیاتی آلودگی میں اسی رفتار سے اضافہ ہوتا رہے گا اور ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ کو روکنے کے لئے شجرکاری اور گاڑیوں سے خارج ہونے والے دھویں کو کم کرنے کے اقدامات نہیں کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں صورتحال سنگین ہوتی چلی جائے گی۔ ماہرین کے مطابق مجلس بلدیہ عظیم ترحیدرآباد کے حدود کے علاوہ اطراف کے 40 کیلو میٹر کے حدود میں آب وہوا میں پیدا ہونے والی خرابی کو شدت سے محسوس کیا جانے لگا ہے اور ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے والے اداروں کی جانب سے یہ رپورٹ تیار کی جانے لگی ہے کہ شہر حیدرآباد کی آب و ہوا بھی بتدریج خراب ہونے لگی ہے۔ ماحولیاتی آلودگی کی پیمائش کرنے والے AQI کی سطح پر ریکارڈ کئے جانے والے اضافہ کے سلسلہ میں محکمہ جاتی عہدیداروں کا کہناہے کہ شہر حیدرآباد میں گاڑیوں سے خارج ہونے والے دھویں کو کم کرنے کے علاوہ شجرکاری کے ذریعہ ہی ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے اقدامات کئے جاسکتے ہیں اس کے علاوہ ماحول کو آلودہ کرنے والی صنعتوں کو شہر سے دور کرنے کے فوری اقدامات ناگزیر تصور کئے جانے لگے ہیں اور اس سلسلہ میں پولیوشن کنٹرول بورڈ کی جانب سے رپورٹ بھی جاری کی جاچکی ہے۔3