حیدرآباد میں تمام جائیدادوں کے دوبارہ اسیسمنٹ کی تیاریاں

,

   

Ferty9 Clinic

پراپرٹی ٹیکس کی وصولی میں بے قاعدگیوں کا انکشاف، جی ایچ ایم سی کو بھاری نقصان

حیدرآباد۔ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں پراپرٹی ٹیکس کی وصولی میں عہدیداروں کی مبینہ بے قاعدگیوں کا پتہ چلا ہے جس کے بعد حکام نے جائیدادوں کے دوبارہ اسیسمنٹ کا فیصلہ کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ماتحت اسٹاف نے پراپرٹی ٹیکس کے تعین میں بے قاعدگیاں کی ہیں۔ حال ہی میں بعض ایسے معاملات منظرعام پر آئے جس میں 4 فلیٹس کے مالک سے صرف 101 روپئے اور 6 فلیٹس کے مالک سے 1575 روپئے ٹیکس وصول کیا گیا۔ کمشنر جی ایچ ایم سی نے شہر میں اس طرح کے واقعات کے تدارک اور حقیقی اسیسمنٹ کے ذریعہ کارپوریشن کی آمدنی میں اضافہ کیلئے تمام جائیدادوں کے دوبارہ اسیسمنٹ کا فیصلہ کیا ہے۔ عہدیداروںکا کہنا ہے کہ ماتحت عملہ نہ صرف شہریوں کو دھوکہ دے رہا ہے بلکہ کارپوریشن کے خسارہ کا سبب بن رہا ہے۔ ٹیکس ادا کرنے والے افراد نے شکایت کی ہے کہ بل کلکٹرس ان سے رقومات حاصل کرتے ہوئے کم ٹیکس طئے کررہے ہیں۔ بل کلکٹرس کو غیر مجاز جائیدادوں سے تین سال کی پینالٹی وصول کرنا ضروری ہے جبکہ وہ صرف ایک سال کی پینالٹی وصول کررہے ہیں۔ کرپشن کے نتیجہ میں جی ایچ ایم سی 50 فیصد تک رقومات سے محروم ہورہی ہے۔ سرورنگر اور بعض دیگر علاقوں میں کھلے عام کرپشن کے معاملات سامنے آئے۔ کمشنر نے پراپرٹی ٹیکس کے کلکشن کی صورتحال پر افسوس کا اظہار کیا اور گریٹر حیدرآباد کے حدود میں موجود تمام جائیدادوں کے دوبارہ اسیسمنٹ کی تجویز حکومت کو روانہ کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ 13 سرکلس میں پراپرٹی ٹیکس کے تحت جی ایچ ایم سی کو سالانہ 1600 کروڑ کی آمدنی ہونی چاہیئے لیکن 2019-20 کے دوران محض 1472 کروڑ کا کلکشن ہوا۔ دیگر سرکلس میں محض 200 کروڑ کی آمدنی ہوئی۔ عہدیداروں نے بتایا کہ اگر کلکشن کیلئے نئے اسٹاف کا تقرر کیا جاتا ہے تو موجودہ اسٹاف انہیں ٹیکس وصول کرنے سے روک دے گا۔ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں 1.5 لاکھ ایسی جائیدادوں کی نشاندہی کی گئی جن کا پراپرٹی ٹیکس حقیقت سے کم ہے۔ کارپوریشن کو موجودہ بل کلکٹرس پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔