ماہرین کی حکومت کورپورٹ، احتیاطی تدابیر اختیار کرنے عوام کو مشورہ
حیدرآباد: گریٹر حیدرآباد کے حدود میں کورونا کیسس میں تیزی سے اضافہ عہدیداروں کے لئے تشویش کا باعث بن چکا ہے ۔ اندیشہ ہے کہ جون تک حیدرآباد میں پازیٹیو کیسس میں اضافہ کا رجحان برقرار رہے گا اور موجودہ کیسس کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔ محکمہ صحت کے حکام نے پیش قیاسی کی ہے کہ آنے والے دنوں میں ہر دو افراد میں سے ایک کورونا علامات کا شکار ہوسکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جس طرح گزشتہ سال جون اور جولائی میں کیسس میں اضافہ درج کیا گیا تھا، اسی طرح دوسری لہر میں جون تک گریٹر حیدرآباد کورونا کی زد میں رہے گا ۔ گزشتہ 10 دنوں میں حیدرآباد کے علاوہ رنگا ریڈی ، ملکاجگری اور دیگر اضلاع میں کیسس کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ عہدیداروں کے مطابق گزشتہ سال اگست میں تلنگانہ میں پازیٹیو کیسس کی شرح عروج پر تھی، ان کا کہنا ہے کہ دوسری لہر کے دوران نہ صرف حیدرآباد بلکہ کئی اضلاع متاثر ہوسکتے ہیں۔ ماہرین نے بتایا کہ موجودہ رجحان کو دیکھتے ہوئے آئندہ تین ماہ تک سخت چوکسی کی ضرورت ہے ۔ حیدرآباد گنجان آبادی کا شہر ہے، لہذا کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلنے کے امکانات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ ماہرین کے مطابق دوسری لہر سے نمٹنے میں احتیاطی تدابیر اہم رول ادا کرسکتی ہے۔ کورونا سے بچاؤ کے لئے اگرچہ ویکسین ایجاد ہوچکی ہے لیکن یہ ویکسین کورونا کی روک تھام سے زیادہ کورونا کا شکار ہونے پر قوت مدافعت کے ذریعہ مقابلہ کرسکتی ہے۔ کئی کیسس میں دو مرتبہ ٹیکہ اندازہ کے باوجود لوگ کورونا وائرس کا شکار ہوئے ہیں ۔ ماہرین نے کہا کہ ماسک کا استعمال اور سماجی فاصلہ کی برقراری کو لازمی کرلیا جائے ۔ ڈائرکٹر سنٹر فار ہیلت کیر مینجمنٹ ایڈمنسٹریٹیو اسٹاف کالج نے حکومت کو تجویز پیش کی ہے کہ دوسری لہر کے اثر کو کم کرنے کیلئے احتیاطی تدابیر کے سلسلہ میں عوام میں شعور بیدار کیا جائے ۔