حیدرآباد میں ستمبر کی 111 سالہ تاریخی موسلادھار بارش، شہر میں جل تھل

,

   

زبردست بارش کے دوران حادثات میں دو افراد فوت l دیگر مقامات پر بھی برقی رو جاری ہونے پر شہریان گھروں تک محدود
شہر کے طول و عرض میں مسلسل بارش سے یکساں صورتحال ، راستے اور سڑکیں جھیلوں میں تبدیل ، بلدی عملہ بعض جگہ عملاً بے بس
بے شمار سڑکوں اور راستوں میں ٹریفک جام ، ٹریفک پولیس اور بلدی نظم و نسق کے عہدیدار راستوں کو بحال کرنے متحرک دیکھے گئے
جی ایچ ایم سی کنٹرول روم بے حد مصروف مگر بعض مقامات کے شہریوں کو بلدیہ سے رابطہ پر تشفی بخش جواب نہ ملنے کی شکایات

حیدرآباد۔25ستمبر(سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں 111سال میں پہلی مرتبہ ماہ ستمبر کے دوران اتنی زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی ہے اور گذشتہ شب رات بھر جاری رہنے والے بارش کے سلسلہ نے شہر کے کئی نشیبی علاقوں کو زیر آب کردیا اور سینکڑوں مکانات میں بارش کا پانی داخل ہونے کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ آج سہ پہر سے بارش کے دوران مادھا پور کے علاقہ میں آدم مارک نامی نوجوان برقی شاک لگنے سے فوت ہوگیا ۔ ایک دیگر واقعہ میں بہادر پورہ میں مکان منہدم ہونے پر ایک غریب خاتون فوت ہوگئی۔ اس طرح چہارشنبہ کو بارش کے سبب حادثات میں دو افراد فوت ہوئے ہیں۔ بارش کے ساتھ ہی محکمہ پولیس‘ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے علاوہ نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس(ڈی آر ایف) کی جانب سے شہریوں کو مشورہ دیا جا رہاہے کہ وہ اپنے گھروں اور جن مقامات پر ہیں ان مقامات پر ہی رہیں کیونکہ شہر کی کئی سڑکیں جھیل میں تبدیل ہوچکی ہیں جس کے سبب شہر میں ہر مقام پرٹریفک جام ہے اور کئی مقامات پر بلدی عملہ کو راستوں کی بحالی میں عملاً بے بس دیکھا گیا۔شہر حیدرآباد میں 111 سالہ تاریخ میں ماہ ستمبر کے دوران ریکارڈ کی جانے والی اس بارش کے متعلق محکمہ موسمیات اور مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد سے تفصیلات حاصل کرتے ہوئے ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق مسٹر کے ٹی راما راؤ نے ٹوئیٹ میں اطلاع دی اور کہا کہ جی ایچ ایم سی اور ڈی آر ایف کی ٹیموں کی جانب سے پانی کی نکاسی کیلئے جو اقدامات کئے جارہے ہیں وہ اطمینان بخش ہیں۔ منگل کی شب سے جاری بارش بعض مقامات پر اولین ساعتوں کے دوران تھم گئی تھی لیکن چہارشنبہ کی سہ پہر اچانک موسلادھار بارش شروع ہوگئی جس کے سبب شہر کے کئی نشیبی علاقوں میں موجود مکانات میں بارش کا پانی داخل ہوگیا۔ اس کے علاوہ جن مقامات پر بارش کا پانی جمع تھا وہاں سے اس بات کی بھی شکایات موصول ہوئی کہ بارش کے پانی کے جمع ہونے کے سبب برقی رو دوڑنے لگی ہے۔ جی ایچ ایم سی مئیر بی رام موہن کے علاوہ کمشنران پولیس اور کمشنر جی ایچ ایم سی نے بارش کے شروع ہوتے ہی عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے مقامات پر رہیں۔ اس کے علاوہ گچی باؤلی ‘ مادھاپور‘ ہائی ٹیک سٹی ‘ کوکٹ پلی ‘ اپل‘ نظام پیٹ کے اور دیگر علاقوں میں خدمات انجام دینے والی ملٹی نیشنل کمپنیوں اور کارپوریٹ اداروں کے علاوہ آئی ٹی کمپنیوں کے ذمہ داروں سے اپیل کی گئی کہ وہ اپنے ملازمین کو بارش رکنے تک نہ چھوڑیں ۔

سہ پہر سے شروع ہونے والی بارش کا سلسلہ زائد از دو گھنٹے جاری رہا اور اس دوران ٹولی چوکی ‘ ندیم کالونی ‘ قلعہ گولکنڈہ ‘ تالاب کٹہ ‘ یاقوت پورہ ‘ نشیمن نگر‘ فرسٹ لانسرز ‘ مانصاحب ٹینک کے علاوہ کئی مقامات پر مکانات میں پانی داخل ہونے کی شکایات موصول ہوئیں اور جی ایچ ایم سی کی جانب سے ان مقامات میں شہریوں کی مدد نہ کئے جانے کی بھی شکایات موصول ہوتی رہی جبکہ شہریوں کی جانب سے متعدد مرتبہ جی ایچ ایم سی کنٹرول روم سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ جی ایچ ایم سی کی جانب سے 18 ٹیموں کو متحرک کرتے ہوئے دونوں شہروں کے مختلف مقامات پر پانی جمع ہونے کی شکایات کو دور کرنے کے اقدامات کئے جاتے رہے ہیں اور محکمہ پولیس کی جانب سے ڈیوٹی پر موجوود پولیس اہلکاروں کو ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ سڑکو ں سے پانی کی نکاسی تک اپنی جگہ پر ڈیوٹی انجام دیتے رہیں تاکہ ٹریفک جام کی صورت میں ٹریفک پر قابو پایاجاسکے۔ محبوب منشن ملک پیٹ کے تاجرین کے علاوہ محبو ب چوک اور دیگر علاقوں کے تاجرین کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ ان علاقو ںمیں کئی دکانات میں پانی داخل ہونے کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ بارش کی رفتار میں شدت اور محکمہ موسمیات کی جانب سے مزید دو گھنٹے مسلسل بارش جاری رہنے کی پیش قیاسی کے ساتھ ہی کمشنر جی ایچ ایم سی لوکیش کمار کی جانب سے تمام زونل کمشنران کے ساتھ اجلاس طلب کرتے ہوئے برسات کے پانی کی نکاسی
کے لئے کئے جانے والے اقدامات کا جائزہ لیا گیا اور عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ اپنے گھروں سے نکلنے سے اجتناب کریں اور بلا کسی ضرورت شدید گھروں سے نہ نکلیں۔1908ء میں ماہ ستمبر کے دوران 15.32 سینٹی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی تھی۔اس کے بعد اکٹوبر 1916 میں 35.51 سینٹی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی تھی۔

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ 25اگسٹ 2000ء کو اندرون چوبیس گھنٹے 24 سینٹی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی تھی لیکن گذشتہ شب کی بارش کے متعلق محکمہ موسمیات کے عہدیدارو ںنے بتایا کہ چند گھنٹوں میں ہی 13.2 سینٹی میٹر بارش ریکارڈ کی جاچکی ہے اور ہوا کے دباؤ میں کمی کے سبب مزید بارش کی پیش قیاسی کی جا رہی ہے اور کہا جار ہاہے کہ آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران مزید بارش ہوسکتی ہے۔ اسی لئے ڈی آر ایف کے علاوہ ایمرجنسی عملہ کو متحرک اور چوکس رہنے کی ہدایات دی گئی ہے تاکہ کسی بھی طرح کے ناخوشگوار حالات کی صورت میں فوری امداد رسانی کے کاموں کی شروعات کی جاسکے اور جن علاقو ںمیں بارش کا پانی جمع ہونے کی یا درختوں کے اکھڑنے کی شکایات موصول ہورہی ہیں ان علاقو ںسے پانی کی نکاسی اور درختوں کو ہٹانے کے کاموں کو مکمل کیاجاسکے ۔شہر میں شام کے وقت اچانک شروع ہونے والی اس موسلادھار گرج اور چمک کے ساتھ بارش کے سبب شہر کے کئی علاقو ںمیں گھنٹوں ٹریفک جام رہا اور ٹریفک پر قابو پانے اور بحال کرنے میں پولیس ملازمین کو بھی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔